بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

نذر معین کو وقت گزرنے کے بعد ادا کرنا


سوال

اگر کوئی شخص نذر مانے کہ میں اس آنے والے اتوار کے دن روزہ رکھوں گا اور پھر اس نے اس اتوار کو نہ رکھا، توکیا  پھر اگلے اتوار کو رکھ سکتا ہے یا نہیں؟اور اس سے نذر پوری ہوجائے گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر کسی عبادت مقصودہ کو لازم کردے ،تو یہ نذر کہلاتا ہے، اگر کسی عبادت بدنی کی نذر مانی جائے تو اس کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے ،البتہ عبادت کے لیے متعین کردہ مکان اور وقت کا اہتمام ضروری نہیں ہے ،اس لیے اگر کسی ایک دن روزہ رکھنے کی نذر مانی جائے  اور پھر دوسرے دن کا روزہ  رکھ لیا جائے ،تو بھی نذر پوری ہوجاتی ہے۔

صورت مسئولہ میں جب نذر میں متعین کردہ دن میں روزہ نہیں رکھا ،تو کسی بھی دن نذر کی نیت سے  روزہ رکھ کرنذر پوری ہوجائے گی۔

 

وألغينا تعيين الزمان والمكان والدرهم والفقير ‌فيجزئة ‌صوم ‌رجب ‌عن ‌نذره ‌صوم ‌شعبان وتجزئه صلاة ركعتين بمصر نذر أداءهما بمكة والتصدق بدرهم عن درهم عينه له والصرف لزيد الفقير بنذره لعمرو.(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح،كتاب الصوم،باب ما يلزم الوفاء به،ص:263)


فتویٰ نمبر : 10764/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں