بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دو حقیقی بھائیوں اور ایک حقیقی بہن کے مابین تقسیمِ میراث


سوال

مسمّٰی خالد جمال کا انتقال ہوچکا ہے، اسکے ورثاء میں دو سگے بھائی(ناصرجمال اور جاویداقبال) اور ایک سگی بہن(سعیدہ) زندہ ہیں، جب کہ دو باپ شریک بھائی(شہزاد اور فاروق) اور ایک باپ شریک بہن(سعدیہ) بھی زندہ موجود ہیں، مرحوم کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ زوجہ اس سے پہلے فوت ہوچکی تھی، اور والدین بھی پہلے فوت ہوچکے تھے۔ مرحوم نے اپنی زوجہ تاج بیگم عرف نیلوفر کے پہلے شوہر سے بیٹے شاہدجمال کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایاتھا، جو اب بھی زندہ موجود ہے، اس صورتحال میں مرحوم کے شرعی ورثاء کو ن کون ہیں جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

میــ(خالدجمال)ـــــــ(5)ــــــــــــــــــــت

حقیقی بھائی             حقیقی بھائی          حقیقی بہن

 ناصرجمال             جاوید اقبال             سعیدہ

    2                       2                     1

بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم(خالدجمال) کا مذکورہ ورثا کے علاوہ کوئی اور زندہ وارث موجود نہ ہو، تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ پانچ(5) حصوں میں تقسیم ہوکرحقیقی بھائیوں(ناصرجمال اور جاوید اقبال) میں سے ہر ایک کو(2/5)حصے، جبکہ حقیقی بہن(سعیدہ) کو ایک(1/5) حصہ ملے گا۔ اس کے علاوہ علاتی (باپ شریک)بھائیوں اور بہن کا مرحوم کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں۔ اسی طرح جو ورثاء مرحوم سے پہلے وفات پاچکے ہوں، وہ بھی مرحوم کے ترکہ میں حصہ دارنہیں ہوتے، نیز منہ بولے بیٹے کی حیثیت بھی اصل بیٹے کی نہیں ہوتی، اصل بیٹے کو مرحوم والد کی میراث میں سے حصہ ملتا ہے لیکن منہ بولے بیٹے کا میراث میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ (النساء:176)

عن علي أنه قال: إنكم تقرءون هذه الآية: {من بعد وصية توصون بها أو دين} «وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌قضى ‌بالدين ‌قبل ‌الوصية، وإن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات، الرجل يرث أخاه لأبيه وأمه دون أخيه لأبيه». (سنن الترمذي، أبواب الفرائض، باب ما جاء في ميراث الإخوة من الأب والأم، رقم الحديث:2094، ج:4، ص:416)

وما جعل الله أدعياءكم .....فلا ‌يثبت ‌بالتبني ‌شيء من أحكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك. (التفسير المظهري، سورة الأحزاب، آية:4، ج:7، ص:284)


فتویٰ نمبر : 4223/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں