بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جمعہ کی پہلی اور دوسری اذان کے درمیان وقفہ


سوال

ہمارے ملک میں عام طور پر یہ رواج ہے کہ جمعہ کی پہلی اور دوسری اذان کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے یا اس سے زیادہ کا وقفہ رکھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے محترم مفتی صاحب کی خدمت میں میرے چند سوالات ہیں: ١. اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ، سلفِ صالحین اور امت کا عملِ متوارث کیا تھا؟ ٢. ہمارے ملک میں جو موجودہ طرزِ عمل رائج ہے، اس کے بارے میں شریعت کا موقف کیا ہے؟ ٣. ہم جانتے ہیں کہ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد سعی الی الجمعہ واجب ہے۔ لیکن موجودہ دور میں چونکہ پہلی اور دوسری اذان کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے یا اس سے زائد وقفہ رکھا جاتا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص (گھر میں قبل الجمعہ کی سنتیں ادا کر کے) دوسری اذان سے پہلے مسجد جاتا ہے، یا (گھر میں سنتیں نہ پڑھنے کی صورت میں) دوسری اذان سے پہلے سنتیں ادا کر سکتا ہے اس قدر وقت لے کر مسجد میں حاضر ہوتا ہے تو کیا وہ پہلی اذان کے فوراً بعد جمعہ کی نیت سے روانہ نہ ہونے کی وجہ سے گناہگار شمار ہوگا؟ ٤. چونکہ آج کل پہلی اور دوسری اذان کے درمیان طویل وقفہ رکھا جاتا ہے، اس لیے اکثر لوگ پہلی اذان کے فوراً بعد جمعہ کے ارادے سے روانہ نہیں ہوتے، یعنی سعی الی الجمعہ کو ترک کر دیتے ہیں۔ اس گناہ سے لوگوں کو بچانے کے لیے بعض مقامات پر یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ جمعہ کا وقت داخل ہونے کے تقریباً ایک گھنٹہ پندرہ منٹ بعد پہلی اذان دی جاتی ہے، پھر مصلیوں کو چار رکعت قبل الجمعہ پڑھنے کے لیے پانچ تا سات منٹ کا وقفہ دیا جاتا ہے، اس کے بعد دوسری اذان دے کر خطبہ اور جمعہ ادا کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ لوگوں کو سعی الی الجمعہ ترک کرنے کے گناہ سے بچانے کے لیے جو یہ طریقہ بعض مقامات پر رائج کیا گیا ہے، شریعت کی نظر میں اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اسے بدعت شمار کیا جائے گا؟ براہِ کرم ان سوالات کے واضح جوابات عطا فرمائیں تاکہ میں مستفید ہو سکوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام مساعی کو قبول فرمائیں۔

جواب

سلفِ صالحین کا عملِ متوارث نمازِ جمعہ کے بارے میں یہ رہا ہے کہ جمعہ کی نماز زوالِ شمس کے بعد اوّل وقت میں ادا کی جاتی تھی۔ چنانچہ احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کا یہ معمول منقول ہے کہ آپ ﷺ زوال کے بعد جلد نمازِ جمعہ ادا فرمایا کرتے تھے۔ اسی طرح خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا عمل بھی یہی رہا۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اذانِ اوّل کا آغاز ہوا تو اذان اور خطبے کے درمیان زیادہ وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کرتے اور پھر قیلولہ کرتے تھے۔ اسی طرح فقہائے احناف کے نزدیک بھی نمازِ جمعہ میں تعجیل مستحب ہے۔

اس کے علاوہ جمعہ کے دن خطبے سے پہلے وعظ ونصحیت کا ثبوت بھی متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ملتا ہے۔ چنانچہ مستدرک حاکم میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبے سے پہلے منبر پررسول اللہ ﷺ کی احادیثِ مبارکہ بیان فرماتے تھے، اور جب امام خطبے کے لیے تشریف لاتے تو وہ  منبر سے اتر جاتے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں  سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔ مذکورہ بالا وضاحت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جمعہ کے دن اذانِ اوّل اور اذانِ ثانی کے درمیان وقفے کے حوالے سے متوارث عمل یہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دورِ مبارک میں زوالِ شمس کے بعد نمازِ جمعہ جلد ادا کی جاتی تھی، اور اس وقت جمعہ کے لیے صرف ایک ہی اذان ہوا کرتی تھی۔ اسی طرح خلفائے راشدین میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی یہی معمول رہا۔ بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب اذانِ اوّل کا اضافہ کیا گیا تو اس کے باوجود نمازِ جمعہ میں تعجیل ہی کی جاتی تھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اذانِ اوّل ابتداءِ وقت میں دی جاتی تھی۔ظاہر ہے کہ اذانِ اوّل کی شروع ہونےسے پہلے وعظ و نصیحت خطبے والی اذان سے پہلے ہوتی تھی، اور اذانِ اوّل کی شروع ہونےکے بعد بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وعظ و تقریر اذانِ اوّل کے بعد ہوتی تھی؛ کیونکہ لوگوں کی سستی اور غفلت کو دیکھتے ہوئے انہیں جمع کرنے کے لیے اذانِ اوّل شروع کی گئی تھی، اور لوگوں کے جمع ہونے کے بعد وعظ و نصیحت زیادہ مفید ہوتی ہے۔

۲۔ موجودہ دور میں اذانِ اوّل کے بعد ایک گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ گزرنے کے بعد اذانِ ثانی کہنا مناسب نہیں؛ کیونکہ ایک تو نمازِ جمعہ کو جلد ادا کرنا احادیثِ نبویہ اور سلفِ صالحین کے عمل سے واضح طور پر ثابت ہے، اور دوسرے فقہائے احناف کے نزدیک بھی نمازِ جمعہ میں تعجیل ہی مذہبِ مختار ہے۔

۳۔ چونکہ سعی الی الجمعہ کا وجوب اذانِ اوّل سے ثابت ہوتا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص اذانِ اوّل کے بعد بغیر کسی عذرِ شرعی کے جمعہ کی تیاری کے علاوہ کسی ایسے کام میں مشغول ہو جو سعی الی الجمعہ کے منافی ہو، تو وہ گناہگار ہوگا۔

۴۔ لوگوں کو گناہ سے بچانے کے لیے اذانِ اوّل کو مؤخر کر کے  پہلے وعظ کرنا اور پھر اذانِ اوّل دے کرسنتوں کے لیے وقت دینا اور پھر پانچ سات منٹ بعد  اذانِ ثانی  دینا فی نفسہ جائز ہے، البتہ چونکہ   جمعہ کے دن اذانِ اوّل کا  بہتروقت زوال کے بعد متصل ہے،کیونکہ اس کی مشروعیت کا مقصد لوگوں کو جمعہ کے وقت سے آگاہ کرنا ہےنیز چونکہ اس صورت میں وعظ و نصیحت آذان اول سےپہلے ہونے کی وجہ سے وہ وعظ ہی داعی الی الجمعہ بن جاتا ہے حالانکہ جمعہ کا اصل داعی آذان ہونا چاہیے اس لیےمذکورہ طریقے کو اختیار کرنا مناسب نہیں ۔

 

عن أنس بن مالك رضي الله عنه:أن النبي صلى الله عليه وسلم ‌كان ‌يصلي ‌الجمعة حين تميل الشمس.(صحيح البخاري، كتاب الجمعة، باب: وقت الجمعة إذا زالت الشمس،ج:1،ص:307،رقم:862)

‌عن ‌السائب ‌بن ‌يزيد ‌قال:كان ‌النداء ‌يوم ‌الجمعة، أوله إذا جلس الإمام على المنبر، على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر رضي الله عنهما، فلما كان عثمان رضي الله عنه، وكثر الناس، زاد النداء الثالث على الزوراء. (صحیح البخاری، باب: الأذان يوم الجمعة.ج:1،ص:309، رقم:870)

ثنا عاصم بن محمد، عن أبيه، قال: رأيت أبا هريرة رضي الله عنه ‌يخرج ‌يوم ‌الجمعة فيقبض على رمانتي المنبر قائما ويقول: حدثنا أبو القاسم رسول الله الصادق المصدوق صلى الله عليه وسلم «فلا يزال يحدث حتى إذا سمع فتح باب المقصورة لخروج الإمام للصلاة جلس»

هذا حديث صحيح الإسناد.(المستدرك على الصحيحين، ‌‌ذكر أبي هريرة الدوسي رضي الله عنه،ج:3،ص:585،رقم :6173)

عن أبي الزاهرية، قال: كنت جالسا مع عبد الله بن بسر يوم الجمعة فما زال يحدثنا حتى خرج الإمام.( المستدرك على الصحيحين، أما حديث حسان بن عطية،ج:1،ص:424،رقم:1061|)

عن عطاء قال: ‌بلغني ‌أن ‌عثمان كان يجمع، ثم يقيل الناس بعد الصلاة.(المصنف لعبد الرزاق، كتاب الجمعة، باب وقت الجمعة،ج:3،ص:448،رقم:5358)

(قوله: أصلا) ‌أي ‌من ‌جهة ‌أصل ‌وقت ‌الجواز، وما وقع في آخره من الخلاف.(قوله: واستحبابا في الزمانين) أي الشتاء والصيف، لكن جزم في الأشباه من فن الأحكام أنه لا يسن لها الإبراد. وفي جامع الفتاوى لقارئ الهداية: قيل إنه مشروع؛ لأنها تؤدى في وقت الظهر وتقوم مقامه، وقال الجمهور: ليس بمشروع؛ لأنها تقام بجمع عظيم، فتأخيرها مفض إلى الحرج ولا كذلك الظهر وموافقة الخلف لأصله من كل وجه ليس بشرط.(ردالمحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الصلاة،ج:1،ص:367)

قوله: (‌زاد ‌النداء ‌الثالث) إنما سمي ثالثا باعتبار كونه مزيدا، لأن الأول هو الأذان عند جلوس الإمام على المنبر، والثاني هو الإقامة للصلاة عند نزوله، والثالث عند دخول وقت الظهر.(عمدة القاري شرح صحيح البخاري، باب الأذان يوم الجمعة،ج:6،ص:211)

وفي رواية له من هذا الوجه فأذن بالزوراء قبل خروجه ‌ليعلم ‌الناس ‌أن ‌الجمعة قد حضرت.(فتح الباري بشرح البخاري، قوله باب الأذان يوم الجمعة،ج:2،ص:394)

قال في شرح المنية. واختلفوا في المراد بالأذان الأول فقيل الأول ‌باعتبار ‌المشروعية ‌وهو ‌الذي ‌بين ‌يدي ‌المنبر لأنه الذي كان أولا في زمنه عليه الصلاة والسلام وزمن أبي بكر وعمر حتى أحدث عثمان الأذان الثاني على الزوراء حين كثر الناس. والأصح أنه الأول باعتبار الوقت، وهو الذي يكون على المنارة بعد الزوال.(رد المحتار على الدر المختار، باب باب الجمعة،ج:2،ص:136)

(‌ويجب ‌السعي ‌وترك ‌البيع بالأذان الأول) والواقع عقيب الزوال.(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، باب صلاة الجمعة، ‌‌كتاب الصلاة ،شرط وجوب الجمعة،ج:1،ص:171)

و" ‌يجب ‌بمعنى ‌يفترض "ترك البيع" وكذا ترك كل شيء يؤدي إلى الاشتغال عن السعي إليها أو يخل به كالبيع ماشيا إليها لإطلاق الأمر "بالأذان الأول" الواقع بعد الزوال.(مرقي الفلاح شرح  نور الإيضاح، ‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب صلاة الجمعة،ص:197)

وبالجمله فهذا الأذان كان قبل التأذين بين يدي الخطيب وكان في أول وقت الظهر متصلا بالزوال.(معارف السنن ليوسف البنوري،ج:3،ص:396)


فتویٰ نمبر : 10851/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں