بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن اذان کے بعد خریدوفروخت کا حکم


سوال

جمعہ کے دن بعداذان خرید وفروخت کرلیا ہے، اب دل بے چین ہے، پوچھنا یہ ہے کہ کیا خریدی ہوئی چیز پرتوبہ کافی ہے؟ کیا اس کو استعمال کریں، یا اس کو پھینک دیں، یا کچھ اور حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد خریدوفروخت اوردوسرے کاموں میں اس طرح  مشغول ہونا جائزنہیں،کہ وہ جمعہ کے لیے جانے اورتیاری میں خلل انداز ہو، البتہ اگرکسی نے اذان جمعہ کے بعد خرید وفروخت کی تو یہ بیع نافذ ہوگی، اوراس کی کمائی بھی حلال ہوگی۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرسائل نے بعد اذان جمعہ خرید و فروخت کی ہے، تواس پر توبہ واستغفارکرلے، یہی کافی ہے، جو خرید وفروخت کی ہے، ان اشیاء کا استعمال درست ہے، کیونکہ یہ بیع  درست ہے، البتہ اس میں کراہت ہے، جس پر سچے دل سے استغفار کافی ہے۔

 

قال اللہ تعالی:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ۔ ۔ ۔ الخ﴾( الجمعۃ:09)

ويجب السعي وترك البيع بالأذان الأول، وقال الطحطاوي: يجب السعي ويكره البيع عند أذان المنبر وقال الحسن بن زياد المعتبر هو الأذان على المنارة والأصح أن كل أذان يكون قبل الزوال فهو غير معتبر والمعتبر أول الأذان بعد الزوال سواء كان على المنبر أو على الزوراء،( الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الباب السابع  عشر في صلوة العيدين، ج:1، ص: 149 )

(وكره) تحريما مع الصحة (البيع عند الأذان الأول) (قوله وكره تحريما مع الصحة) أشار إلى وجه تأخير المكروه عن الفاسد مع اشتراكهما في حكم المنع الشرعي والإثم، وذلك أنه دونه من حيث صحته وعدم فساده؛ لأن النهي باعتبار معنى مجاور للبيع لا في صلبه ولا في شرائط صحته، ومثل هذا النهي لا يوجب الفساد بل الكراهية كما في الدرر( ردالمحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب  في أحكام نقصان المبيع فاسداً، ج:7، ص:304)


فتویٰ نمبر : 4002/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں