بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

چلغوزہ کی عشر مالک یا مزدورپر


سوال

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہمارے علاقے کے پہاڑوں میں ایک درخت پایا جاتا ہے جسے پشتو زبان میں "زانغوزائ" اور اردو میں "چلغوزہ" کہا جاتا ہے۔ یہ درخت بارش کے پانی سے پھل دیتا ہے اور اس پر مالک کا کوئی خرچ نہیں آتا۔ البتہ اس کے پھل توڑنے میں مشقت بہت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اکثر ایسا کیا جاتا ہے کہ درخت کا مالک کسی شخص کے ساتھ عقد کر لیتا ہے کہ وہ پھل توڑے اور حاصل کو طے شدہ حصے (مثلاً نصف یا تہائی) میں تقسیم کر لیں۔ اس طرح مالک اور عامل مخصوص حصوں میں پھل کو آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں چلغوزہ کے پھل کی زکاۃ کس پر واجب ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ زمین سے جو پیداوار حاصل ہو، اس پر عشر یا نصف عشر واجب ہوتا ہے۔ یہ واجب الادا عشر یا نصف عشر زمین کے مالک کے ذمہ ہوتا ہے، نہ کہ اس شخص کے جسے پیداوار کی کٹائی کے لیے مزدور کے طور پر مقرر کیا گیا ہو۔ اگر مالک پیداوار میں سے کچھ حصہ اس مزدور کو دے دے، تب بھی عشر کی ادائیگی مالک کی ذمہ داری رہے گی، مزدور کی نہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق عشر درخت کے مالک پر لازم ہے،نہ کہ اس مزدور پر جسے پھل توڑنے کے بدلے میں کچھ حصہ دیا گیا ہو۔

 

ويجب العشر في العسل إذا كان في أرض العشر، وكذا لمن إذا أسقط على الشوك الأخضر في أرضه كذا في خزانة المفتين، وما يجمع من ثمار الأشجار التي ليست بمملوكة كأشجار الجبال يجب فيها العشر كذا في الظهيرية.(الفتاوى الهندية۔كتاب الزكاة،الباب السادس في زكاة الزرع والثمار،ج:1،ص:186)


فتویٰ نمبر : 10772/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں