بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 15/08/2026 |
دارالافتاء
کسی چیز کےبیچنے کی شرط پرقرض دینا
سوال
ہمارے علاقے کے پہاڑوں میں ایک درخت پایا جاتا ہے جسے پشتو زبان میں "زانغوزائ" اور اردو میں "چلغوزہ" کہا جاتا ہے۔ چونکہ ہم لوگ فوجی آپریشن کی وجہ سے اپنے علاقے سے نکالے گئے ہیں۔ جب چلغوزہ کے پکنے کا وقت قریب آتا ہے تو حکومت چند دنوں کے لیے لوگوں کو اپنے پہاڑی پھل دیکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ واپسی کے بعد بعض لوگ، جن کے پاس پیسے نہیں ہوتے، کسی دوسرے شخص سے قرض لے لیتے ہیں، تو وہ اپنے ان درختوں کے پھل اسی وقت قرض دینے والے کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں خیال رہے کہ قرض دینے والا قرض صرف اس وقت دیتا ہے جب قرض لینے والا اس کے ساتھ اپنے پہاڑی پھل بیچنےکاعقد کرے۔ سوال یہ ہے کہ: کیا اس طرح کا عقد شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی روسےقرض کا معاملہ کرتے وقت کوئی بھی ایسی شرط لگانا درست نہیں ۔جس میں قرض دینے والے کا اضافی فائدہ ہو، کیونکہ قرض خواہ کا اس طرح شرط لگا کر فائدہ حاصل کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے ۔
لہذا صورت ِ مسئولہ کے مطابق اگر قرض دینے والا شخص یہ شرط لگائے کہ قرض لینے والا اپنا باغ اس قرض خواہ کو فروخت کرے گا۔ تواس شرط پر قرض لیناجائز نہیں، تا ہم اگر بغیر کسی شرط کے قرض لے اور الگ عقد کے ساتھ پھل فروخت کرے تو اس میں مضائقہ نہیں، نیز اگر عقد سلم کیا جائے اورسلم کی جملہ شرائط کی رعایت موجود ہو تو پھر یہ معاملہ جائز ہوسکتا ہے، سلم کی صورت میں درخت کا مالک اور رقم کا مالک آپس میں اس طور پر عقد کریں گےکہ چلغوزہ کی نوع، صفت اور مقدار بیان کر کے حوالگی کی جگہ اور مدت کومتعین کریں گے اور اس کی قیمت طے کر کے وہ ساری رقم درختوں کے مالک کو اسی مجلس میں حوالہ کر دی جائےگی اور وہ طے شدہ وقت پر اُسی نوع اور وصف کے مطابق اسی مقدار میں چلغوزہ حوالہ کرنےکاپابند ہوگا۔
وأما الذي يرجع إلى نفس القرض،فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنه نهى عن قرض جر نفعا؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب البيوع، باب القرض، ج:7، ص:395)
ولا يصح السلم عند أبي حنيفة رحمه الله إلا بسبع شرائط: جنس معلوم،كقولنا حنطة أو شعير، ونوع معلوم كقولنا: سقية أو بخسية، وصفة معلومةكقولنا: جيد أو رديء، ومقدار معلوم،كقولنا: كذا كيلا بمكيال معروف وكذا وزنا، وأجل معلوم، والأصل فيه ما روينا، والفقه فيه ما بينا.ومعرفة مقدار رأس المال إذا كان يتعلق العقد على مقداره كالمكيل والموزون، والمعدود،وتسمية المكان الذي يوفيه فيه إذا كان له حمل ومؤنة.(الهداية في شرح بداية المبتدي کتاب البیوع، باب السلم، ج:3، ص:73)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں