بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ذکر بالجہر کاحکم


سوال

کیا ذکر بالجہر جائز ہے یا ناجائز؟ مجلس میں ذکر بالجہر کا کیا حکم ہے؟ تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ اصولی اور عمومی طور پر تو تنہائی میں آہستہ آواز سے ذکر کرنا بہتر اور افضل ہے، تاہم اجتماعی طور پر جہرًا ذکر کرنا بھی شریعتِ مطہرہ کی رو سے جائز ہے، کیونکہ جہراً ذکر کرناحدیث سے ثابت ہے، چنانچہ حدیثِ قدسی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:"جب میرا بندہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے یاد کرتا ہوں، پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں (یعنی چھپ کر آہستہ سے تنہائی میں) یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی مجمع میں یاد کرتا ہے، تو میں اس سے بہتر اور افضل مجمع (یعنی فرشتوں کے مجمع) میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں"۔

فقہاءِ کرام نے بعض احوال واشخاص کے اعتبار سے ذکر بالجہر کو افضل قرار دیاہے۔ لہٰذا اگر کوئی متبعِ شریعت، شیخِ کامل اپنے مریدوں کی اصلاح وتربیت کے لیے کسی ایسی جگہ پر ذکر کی مجلس منعقد کرے جہاں دیگر عبادت کرنے والوں کی عبادت میں خلل نہ پڑتا ہو اور اسے لازم وضروری نہ سمجھا جائے، بلکہ تربیت کا حصہ سمجھا جائے، نیز ذکر بالجہر نہ کرنے والوں کو برا یا کم تر نہ سمجھا جائے تو اس کی اجازت ہوگی، لیکن رسمی طور پر بلاکسی معتبر مربی کے ایسی مجلسیں منعقد کرنا جہاں حدود کی رعایت نہ رکھی جاتی ہو، یا ان مجلسوں میں شرکت کو ایسا لازم سمجھنا کہ شریک نہ ہونے والے کو حقارت کی نظر سے دیکھا جائے یا ان پر جبر کیا جائے، یا ایسی جگہ پر مجلس منعقد کرنا جس سے دیگر عبادات گزاروں کی عبادت میں خلل واقع ہو، تو یہ طرزِ عمل درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: (يقول الله تعالى: ‌أنا ‌عند ‌ظن ‌عبدي ‌بي، ‌وأنا ‌معه ‌إذا ‌ذكرني، فإن ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي، وإن ذكرني في ملإ ذكرته في ملأ خير منهم). (صحيح البخاري، كتاب التوحيد، باب قول الله تعالى {ويحذركم الله نفسه}، رقم الحديث:6970، ج:6، ص:2694)

مطلب في رفع الصوت بالذكر: (قوله ورفع صوت بذكر إلخ) أقول: ‌اضطرب ‌كلام ‌صاحب ‌البزازية ‌في ‌ذلك؛ فتارة قال: إنه حرام، وتارة قال إنه جائز. وفي الفتاوى الخيرية من الكراهية والاستحسان: جاء في الحديث به اقتضى طلب الجهر به نحو " «وإن ذكرني في ملإ ذكرته في ملإ خير منهم» رواه الشيخان. وهناك أحاديث اقتضت طلب الإسرار، والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال كما جمع بذلك بين أحاديث الجهر والإخفاء بالقراءة ولا يعارض ذلك حديث «خير الذكر الخفي» لأنه حيث خيف الرياء أو تأذي المصلين أو النيام، فإن خلا مما ذكر؛ فقال بعض أهل العلم: إن الجهر أفضل لأنه أكثر عملا ولتعدي فائدته إلى السامعين، ويوقظ قلب الذاكر فيجمع همه إلى الفكر، ويصرف سمعه إليه، ويطرد النوم، ويزيد النشاط. اهـ. ملخصا، وتمام الكلام هناك فراجعه. وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ إلخ. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، فروع أفضل المساجد، مطلب في رفع الصوت بالذكر، ج:1، ص:660)


فتویٰ نمبر : 6513/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں