بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
ایک بیوہ، نوبیٹوں اور چاربیٹیوں کے مابین تقسیم میراث
سوال
ایک شخص(حاجی خلیل الرحمٰن) وفات پاچکا ہے، اس کے ورثا میں ایک بیوہ(شہنازبی بی)، نوبیٹے(عالمزیب، ثمین، زرعلی، مراد، زیراللہ، صفدر، امیراللہ، دانیال اور حمیدخان) اور چاربیٹیاں(رومینہ، مینہ، بصالحہ اور ملائکہ) موجود ہیں، اب مرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثا میں کس حساب سے تقسیم ہوگا؟ جب کہ مرحوم کی ایک بیوی اور ایک بیٹا اس کی زندگی میں فوت ہوچکے تھے کیا ان کا وراثت میں حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
جواب
میـــــ(حاجی خلیل الرحمٰن)ــــ(176)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـ ـ
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا
شہناز بی بی عالمزیب ثمین زرعلی مراد زیراللہ صفدر امیراللہ دانیال حمیدخان
22 14 14 14 14 14 14 14 14 14
ـ ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
رومینہ مینہ بصالحہ ملائکہ
7 7 7 7
بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم(حاجی خلیل الرحمٰن) کا مذکورہ ورثا کے علاوہ کوئی اور زندہ وارث موجود نہ ہو، تو بعد از ادائےحقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ ایک سو چھہتر(176) حصوں میں تقسیم ہوکر بیوہ(شہنازبی بی) کو بائیس(22/176) حصے، نو بیٹوں(عالمزیب، ثمین، زرعلی، مراد، زیراللہ، صفدر، امیر اللہ، دانیال اور حمیدخان) میں سے ہر ایک کو چودہ(14/176) حصے، جبکہ چار بیٹیوں(رومینہ، مینہ، بصالحہ اور ملائکہ) میں سے ہر ایک کوسات(7/176) حصے ملیں گے۔ اور مرحوم کی جو بیوی اور بیٹا اس کی زندگی میں فوت ہو چکے تھے ان کا مرحوم کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔
قال الله تعالى: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ﴾. (سورة النساء: 11)
وقال تعالى: ﴿فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ﴾ (النساء:12)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں