بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

جمعہ اور عید کی نماز پڑھنے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاوں شاہ گئی جو بر لب تجوڑی روڈ کے جنوب میں واقع ہے جسکی آبادی 2860 تک پہنچی ہے اور مندرجہ ذیل سہولیات سے آراستہ ہے۔ 05 میڈیکل سٹور ، 01 ڈینٹل کلینک، 02 غلہ منڈی، 02 پیٹرول ایجنسی، 03 شوز شاپ، 02 مردانہ اور 03 زنانہ کلاتھ ھاؤس، 01 بوائز گورنمنٹ پرائمری سکول 01 زنانہ مڈل سکول یونیسیف، 02:ابنوشی ٹیوب ویل، 27 آبپاشی ٹیوب ویل، 3 بٹھہ خشت، 5 ٹیلرز ماسٹر هاؤس، 3 عدد پینچرز والے، 2 زنانہ 2 مردانه دینی مدارس، 14 پرچون دکان 14 مساجد الیکٹریکل دکان، حجام دوکان، لوہار ، ترکان اور موبائل دکان، سونا یوریا، سیمنٹ ، ریت اور بجری سٹاک موجود ہیں۔ 01 گائے فارم اور 01 بکری فارم ، 4 چھوٹے بڑے قبرستان موجود ہیں۔ 01 آٹا چکی، ھومیو پیتھک ڈاکٹر کی سہولت بھی موجود ہے۔ لہذا مندرجہ بالا آبادی اور سہولیات کے ہوتے ہوئے نماز جمعہ اور عیدین کے مشروعیت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط شہریا اس کے مضافات کا ہونا ہے، قریہ کبیرہ یعنی بڑا گاؤں بھی شہر کے حکم میں داخل ہے،قریہ کبیرہ سے مراد وہ بستی ہے جس کی مجموعی آبادی کم از کم دو، ڈھائی ہزار لوگوں پر مشتمل ہو، اور وہاں ضروریاتِ زندگی کا سامان میسر ہو،  تو یہ عرف میں قریہ کبیرہ یعنی بڑی بستی شمار ہوگا۔ایسی جگہ جمعہ و عیدین کی نماز قائم کرنا درست ہے۔

صورتِ مسئولہ میں چونکہ ذکر کردہ گاؤں کی آبادی ڈھائی ہزار سے متجاوز ہے، نیز مذکورہ گاؤں میں حسبِ سوال زندگی کی سہولیات بھی میسر ہیں، اس لیے اس میں نمازِ جمعہ وعیدین کی ادائیگی جائز ہے۔

 

لا ‌تصح ‌الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع ". (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الصلاة، باب الصلاة الجمعة، ج:1، ص:82)

(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء..... (أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا كما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجي. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:139)

وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره ‌والناس ‌يرجعون ‌إليه ‌في ‌الحوادث وهو الأصح. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل في صلاة الجمعة، بيان شرائط الجمعة، ج:1، ص:260)


فتویٰ نمبر : 10773/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں