بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو بلا نیت طلاق تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہنا


سوال

 ایک شخص سے اس کی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا ،اس نے  بغیر کسی غیظ و غضب کے،نارمل حالت میں رہتے ہوئے اس کو جواب دیا اور کہا کہ"چی سنگہ تہ وائی ھم دغسی دہ"(یعنی جیسا تم کہہ رہی ہو ایسا ہی ہے) شوہر نے دو مرتبہ یہ الفاظ دہرائے،لیکن بیوی نہیں مانی اور کہنے لگی کہ طلاق کے الفاظ بول دےاور ایسا کہےکہ میں نے تجھے  طلاق دی ہے،لہذا شوہر نے دل میں فیصلہ کردیا کہ طلاق تو نہیں دیتا لیکن بیوی سے جان چھڑانے کی غرض سے اس نے کہا"تہ پہ ما طلاقہ ئی" (تم مجھ پر طلاق ہو) ایک مرتبہ کہنےکے بعد بیوی نے دوبارہ اور سہ بارہ بولنے کا مطالبہ کیا اور شوہر نے ہر مرتبہ اس کے جواب میں یہ الفاظ کہہ دئیے،تو کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوچکی ہے یا نہیں، جب شوہر کی نیت طلاق دینےکی بالکل  نہیں تھی، صرف بیوی  سے اس وقت  جان چھڑانے کی غرض سے یہ الفاظ کہے ہوں؟ 

جواب

واضح رہے کہ طلاق کے لیے دو قسم کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں: ایک صریح اور دوسرے کنائی۔ صریح الفاظ وہ ہوتے ہیں جو صرف طلاق کا معنی رکھتے ہوں اور اس میں  کوئی دوسرا احتمال  نہ ہو۔ اگر صریح الفاظ بیوی سے  کہے جائیں تو ان سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، چاہے شوہر نے طلاق دینے کی نیت کی ہو یا نہ ہو۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جس شخص نے بیوی کے مطالبے پر تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے ہوں: "تہ پہ ما طلاقہ ئی"(تم مجھ پر طلاق ہو) تو اس کی  بیوی پر تین طلاق واقع ہو چکی ہیں، اور عورت مغلظہ بن چکی ہے۔

 

قال الله تعالی:"فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرة:230)

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌ثلاث ‌جدهن ‌جد، ‌وهزلهن ‌جد: ‌النكاح، والطلاق، والرجعة ".(سنن أبي داؤد،باب في الطلاق على الهزل،ج:2،ص:259)

أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: " أنت طالق " أو " أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة..... وهذه ‌الألفاظ ‌ظاهرة ‌المراد؛ ‌لأنها ‌لا ‌تستعمل ‌إلا ‌في ‌الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الطلاق، فصل في النية في أحد النوعي الطلاق..،ج:3،ص:101)


فتویٰ نمبر : 7286/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں