بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نماز باجماعت کے دوران صفوں کے مابین اتصال وانفصال کی وضاحت


سوال

نماز باجماعت  کے دوران صفوں کے مابین اتصال کا حکم کیا ہے؟ صفوں کے بیچ میں کتنے فاصلے سے اتصال ٹوٹ جاتا ہے،نیز ایک بڑا میدان ہو اور درمیان میں بڑے راستے ہوں، تو کیا ان راستوں میں ایک طرف ایک نمازی کھڑے ہونے سے اتصال باقی رہ جائے گا؟، الغرض نماز باجماعت کےدوران  مسجد کے اندر اور باہر شرقا غربا اور شمالا جنوبا اتصال اور انفصال کی مکمل تفصیل سے آگاہ فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ صحتِ جماعت کی شرائط میں سے یہ بھی ہےکہ امام اورمقتدی کےکھڑے ہونے کی جگہ  ایک ہو، یا اگر جگہ ایک نہ ہوتو صفوں میں اتصال ضرور ہو،صفوں کے باہم اتصال  کےلیے  ضروری ہے کہ ان کے درمیان کوئی شاہراہ عام حائل نہ ہوجس میں عموما چار پہیوں والی گاڑی گزر سکتی ہو،اور نہ ایسا نہر ہو جس میں کشتی گزر سكتی ہو اورنہ ہی بڑا حوض ہوجس کی ایک جانب میں گندگی ڈالنے سے اس کااثر دوسری جانب تک نہ پہنچے،نیز مساجدمیں  اگر صفوف کے درمیان دو صفوں کے برابر  بھی خالی جگہ رہ جائے تو بھی  اقتدا سے مانع نہیں ہے ،لیکن بلا ضرورت صفوں کے درمیان فاصلہ رکھنا مکروہ تحریمی ہے۔ نیز واضح رہے کہ ضرورت کے وقت مسجد سےباہر کھڑے ہونے کی صورت میں مسجد اورباہر  کی صفوں میں  اتصال ضروری ہے ورنہ اقتدا درست نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق بڑے میدان میں جماعت پڑھنے کی صورت میں اگر درمیانی  راستے دو صفوں سے کم ہوں توان  راستوں سے اُس طرف نمازیوں کی اقتدا جائز ہے اور اگر درمیانی راستے دو صفوں کےبرابر یا ان سے زیادہ ہوں توصفوں میں اتصال باقی نہ رہنے کی وجہ سے ان راستوں سے اُس طرف لوگوں کی اقتدا جائز نہیں ہوگی،اور ان بڑے راستوں میں ایک نمازی کھڑےہونے سےصفوں کا اتصال باقی نہیں رہتا جب تک کہ دو یا تین نمازی کھڑے نہ ہوں ۔نیز نمازیوں پر مسجد تنگ پڑ جانے کی صورت میں مسجد سے باہر بھی صفیں بچانا جائز ہے لیکن  اس صورت میں ضروری ہے کہ  صفوفِ  مسجد اور باہر  کی صفوں میں اتصال ہو یعنی درمیان میں  دو صفوں کے برابرخالی جگہ نہ رہے ورنہ بصورت دیگر اقتدا جائز نہ ہوگی، کیونکہ باہر کی جگہ مسجد اورفنائے مسجد نہ ہونے کی بنا پر مسجد کے حکم میں نہیں ہے، لہذا وہاں سے اقتدا کی صورت میں صفوں کے درمیان اتصال ضروری ہے۔

 

(ويمنع من الاقتداء...طريق تجري فيه عجلة) آلة يجرها الثور (أو نهر تجري فيه السفن) ولو زورقا ولو في المسجد (أو خلاء) أي فضاء (في الصحراء) أو في مسجد كبير جدا كمسجد القدس (يسع صفين) فأكثر إلا إذا اتصلت الصفوف فيصح مطلقا، كأن قام في الطريق ثلاثة، وكذا اثنان عند الثاني لا واحد اتفاقا لأنه لكراهة صلاته صار وجوده. كعدمه في حق من خلفه.[قال ابن عابدين تحته:] (قوله أو في مسجد كبير جدا إلخ) قال في الإمداد: والفاصل في مصلى العيد لا يمنع وإن كثر. واختلف في المتخذ لصلاة الجنازة. وفي النوازل: جعله كالمسجد، والمسجد وإن كبر لا يمنع الفاصل إلا في الجامع القديم بخوارزم، فإن ربعه كان على أربعة آلاف أسطوانة وجامع القدس الشريف أعني ما يشتمل على المساجد الثلاثة الأقصى والصخرة والبيضاء، كذا في البزازية اهـ ومثله في شرح المنية. وأما قوله في الدرر: لا يمنع من الاقتداء الفضاء الواسع في المسجد، وقيل يمنع اهـ فإنه وإن أفاد أن المعتمد عدم المنع لكنه محمول على غير المسجد الكبير جدا كجامع خوارزم والقدس بدليل ما ذكرناه، وكون الراجح عدم المنع مطلقا يتوقف على نقل صريح فافهم. [تتمة] في القهستاني: البيت كالصحراء. والأصح أنه كالمسجد ولهذا يجوز الاقتداء فيه بلا اتصال الصفوف كما في المنية اهـ ولم يذكر حكم الدار فليراجع...وحاصله: أن الدار الكبيرة كالصحراء والصغيرة كالمسجد، وأن المختار في تقدير الكبيرة أربعون ذراعا. وذكر في البحر عن المجتبى أن فناء المسجد له حكم المسجد، ثم قال: وبه علم أن الاقتداء من صحن الخانقاه الشيخونية بالإمام في المحراب صحيح وإن لم تتصل الصفوف لأن الصحن فناء المسجد، وكذا اقتداء من بالخلاوي السفلية صحيح لأن أبوابها في فناء المسجد إلخ، ويأتي تمام عبارته. وفي الخزائن: فناء المسجد هو ما اتصل به وليس بينه وبينه طريق. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ويمنع من الاقتداء...، ج: 1، ص: 584-585)

(والحائل لا يمنع) الاقتداء (إن لم يشتبه حال إمامه) بسماع أو رؤية ولو من باب مشبك يمنع الوصول في الأصح (ولم يختلف المكان) حقيقة كمسجد وبيت في الأصح قنية، ولا حكما عند اتصال الصفوف؛[قال ابن عابدين تحته:](قوله كمسجد وبيت) فإن المسجد مكان واحد، ولذا لم يعتبر فيه الفصل بالخلاء إلا إذا كان المسجد كبيرا جدا وكذا البيت حكمه حكم المسجد في ذلك لا حكم الصحراء كما قدمناه عن القهستاني. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج: 1، ص: 586)

المانع من الاقتداء ثلاثة أشياء.(منها) طريق عام يمر فيه العجلة والأوقار هكذا في شرح الطحاوي إذا كان بين الإمام وبين المقتدي طريق إن كان ضيقا لا يمر فيه العجلة والأوقار لا يمنع وإن كان واسعا يمر فيه العجلة والأوقار يمنع. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة هذا إذا لم تكن الصفوف متصلة على الطريق أما إذا اتصلت الصفوف لا يمنع الاقتداء ولو كان على الطريق واحد لا يثبت به الاتصال بالثلاث يثبت بالاتفاق وفي المثنى خلاف على قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يثبت وعلى قول محمد - رحمه الله تعالى – لا، كذا في المحيط... والمانع من الاقتداء في الفلوات قدر ما يسع فيه صفين وفي مصلى العيد الفاصل لا يمنع الاقتداء وإن كان يسع فيه الصفين أو أكثر وفي المتخذ لصلاة الجنازة اختلاف المشايخ وفي النوازل جعله كالمسجد. كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الخامس، الفصل الرابع في بيان ما يمنع صحة الاقتداء وما لا يمنع، ج: 1، ص: 87)


فتویٰ نمبر : 10759/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں