بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

قرض کی واپسی میں مثل کی بجائےقیمت دینا


سوال

ہم اپنےخاندان میں پانچ بھائی ہیں۔ ہم نےسنہ1997ءمیں اپنےہی خاندان کی تین خواتین سےسونا قرض لیاتھا۔ اسی سونےکی رقم کےذریعےہم نے زمین خریدی تھی۔اس وقت یہ وعدہ کیا گیاتھاکہ بعدمیں وہ سونایااس کی قیمت واپس کردی جائےگی۔ بعدازاں سنہ2008ءکومیں نےاپنی بیوی سے مزیدسوناقرض لیا،جس کےذریعےمیں نےایک دکان کھولی۔اب ہم چاہتےہیں کہ وہ قرض واپس کریں۔ سوال یہ ہےکہ:1.کیااب ہم پراسی سونےکی مقدارکےمطابق سوناواپس کرنالازم ہے،یاسونےکی قیمت کےاعتبارسےرقم دی جا سکتی ہے؟ 2.اگرقیمت کےلحاظ سےواپس کرنا درست ہے،توکیا وہ قیمت اس وقت(1997ءاور2008ء)کی ہوگی یا موجودہ(2025ء)کےحساب سے؟3.اگرموجودہ قیمت کےلحاظ سےواجب الادابنےتوکیاان خواتین کاحق پورادیاجائےگایاآدھاکیاجاسکتاہے؟شرعی اصولوں کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں کہ ہم پرکس قدرادائیگی واجب ہے،اوران کایہ قرض آدھا کرنایاکمی کرنا درست ہوگایانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ کی رو سےقرض کی واپسی میں اس چیزکےمثل کوواپس کرنا واجب ہوتا ہےجس چیزکوبطورقرض لیاہو،البتہ جس چیزکی مثل ماركيٹ ميں نہ ملتی ہوتوپھراس کی قیمت دی جائےگی،اس اعتبارسےاگرکسی نےسونابطورقرض لی ہوتوقرض کےواپسی میں اتنی ہی مقدارسوناواپس کرناواجب ہوگااوراس میں سونےکی قیمت کےگھٹنےیابڑھنےکااعتبارنہیں ہوگا،نیزیہ بھی یاد رہےکہ دائن اورمدیون کادین یا قرض کےمقدارسےکم کسی مقدارپریاخلاف الجنس مثلا قیمت وغیرہ پرمصالحت کرلینابھی جائزہے۔

لہٰذاصورت مسئولہ میں جتنی مقدارمیں سونا قرض لیا گیاتھااتنی مقدارمیں سوناواپس کردینالازمی ہےالبتہ سونےکی مروجہ قیمت اداکرنےسےبھی ذمہ فارغ ہوسکتا ہے،اورباہمی مصالحت ہم جنس اورخلاف الجنس دونوں پرجائزہےاوریہ بھی واضح رہےکہ ان عورتوں کاحق پورادیناواجب ہے،ان کی واقعی رضامندی کےبغیراس میں کمی کرناجائزنہیں،ہاں اگروہ برضاورغبت ازخودکچھ معاف کردیں توجائزہے۔

 

الديون تقضى ‌بأمثالها لابأعيانها.(المبسوط للسرخسي، كتاب المفقود، ج :11، ص :41)

أنه ‌لو ‌كانت ‌الدراهم ‌فضتها ‌خالصة ‌أو ‌غالبة ‌كالريال ‌الفرنجي ‌في ‌زماننا فالواجب رد مثلها، وإن كانا في بلدة أخرى، لأن ثمنية الفضة لا تبطل بالكساد، ولا بالرخص أو الغلاء.(‌‌ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،‌‌فصل في القرض،ج :5،ص: 163)

‌المديون ‌إذا ‌قضى ‌الدين ‌أجود ‌مما ‌عليه ‌لا ‌يجبر ‌رب ‌الدين ‌على ‌القبول ‌كما ‌لو ‌دفع ‌إليه ‌أنقص ‌مما ‌عليه، ‌وإن ‌قبل ‌جاز ‌كما ‌لو ‌أعطاه ‌خلاف ‌الجنس ‌وهو ‌الصحيح.(الفتاوی الھندیة،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفي القرض والاستقراض والاستصناع،ج:3،ص:204)


فتویٰ نمبر : 3967/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں