بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اپنی اولاد کو عاق کرنے کا حکم


سوال

اپنی اولاد کو عاق کرنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟ نیز عاق کردہ اولاد کو میراث میں حصہ نہ دینا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ "عاق "عقوق سے  ہے جس کا معنی ہے ،نافرمانی کرنا ،والدین کی بات نہ ماننا،عاق کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ والدین اپنی اولاد کو نافرمان قرار دیں، یا ان کی نافرمانی کی وجہ سے  والدین اظہار لا تعلقی کریں ،اور ان کے معاملات سے بے دخلی کا اظہار کریں،اگر والدین اپنے بچوں کو احساس دلانے اور راہ راست پر لانے کے لیے اس طرح کررہے ہوں، تو  وقتی ناراضگی جائز ہے البتہ جب بھی وہ سدھر جائیں، تو ان کے ساتھ دوبارہ تعلق قائم کرنا ضروری ہے،بلا کسی وجہ اولاد کو عاق کرنا  قطع رحمی کے حکم میں داخل ہو کر جائز نہیں ،نیز میراث اللہ تعالی کی طرف سے مقرر شدہ حق ہے کسی کو اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی وارث کو میراث سے محروم کردے،اور نہ ہی کسی کے محروم کرنے سے اولاد ،میراث سے  محروم ہوتی ہے ،بلکہ پھر بھی باپ کے مرنے کے بعد اسے  میراث میں اپنا حصہ ملے گا۔

 

عن أنس بن مالك:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (لا تباغضوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا، ولا يحل لمسلم ‌أن ‌يهجر ‌أخاه فوق ثلاث ليال).(صحيح البخاري،كتاب الأدب،باب الهجرة،رقم الحديث:5726)

‌ عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "‌من ‌فر ‌من ‌ميراث ‌وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة".(سنن ابن ماجه،أبواب الوصايا،باب الحيف في الوصية،رقم الحديث:2702)

وعقق: معدول عن عاق للمبالغة كغدر من غادر وفسق من فاسق. والعقق: البعداء من الأعداء. والعقق أيضا: قاطعو الأرحام. ويقال: عاققت فلانا أعاقه عقاقا إذا خالفته. قال ابن بري عق والده يعق عقوقا ومعقة .... وفي الحديث: أنه، صلى الله عليه وسلم، نهى عن عقوق الأمهات ، وهو ضد البر، وأصله من العق الشق والقطع، وإنما خص الأمهات وإن كان عقوق الآباء وغيرهم من ذوي الحقوق عظيما لأن لعقوق الأمهات مزية في القبح.(لسان العرب،حرف القاف،فصل العين المهملة،ج:10،ص:257)

‌الإرث ‌جبري لا يسقط بالإسقاط.(قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتارعلى الدر المختار،كتاب الدعوى،باب التحالف،ج:8،ص:116)


فتویٰ نمبر : 3790/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں