بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
طلاق کنائی کے بعد خلع کیا جائے تو عدت کے شروع کا حکم
سوال
میری 11 اپریل 2025 کو رخصتی ہوئی ،چونکہ میرےسسرال والے کراچی میں تھے اور میں پشاور میں رہتی تھی اس وجہ سے میں 20 اپریل کو اپنے شوہر کے پاس کراچی چلی گئی ،وہاں شوہر کے ساتھ کچھ دن رہتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ میرا شوہر لڑکیوں کے ساتھ ناجائز تعلقات میں ملوث ہے،اس لیے جب میری اس کے ساتھ اس بارے میں بات ہوئی ،تو مجھے کہنے لگے"تم میری طرف سے فارغ ہو میرا اور تمہارا رشتہ ایک کاغذ کا ہے ،تم اپنا سامان پیک کرو میں آج تمہارا ٹکٹ کراکر پشاور بھیجتا ہوں" وہ یہی چاہتے تھے کہ یہ رشتہ ختم ہو ،اس کے بعد میں جون کے مہینے میں پشاور آگئی،چونکہ مجھے ان الفاظ کے بارے نہیں پتہ تھا ،اس وجہ سے میں نے مہلت دینے اور سدھر نے کا کہا لیکن وہ نہیں مانے اوراسی رشتہ کو ختم کرنا چاہتے تھے،لہذا میں نے 18 جولائی کو خلع درج کروائی ،کاغذات بننے کے بعد شوہر تک کراچی پہنچے تو 18 ستمبر کو میرے شوہر نے خلع کے کاغذات پر دستخط کیے،اس کے بعد میرے پاس پہنچنے میں کچھ دن لگ گئے اور 30 ستمبر کو میں نے دستخط کیے،اب پوچھنا یہ ہے کہ میری عدت کب سے شروع ہوگئی ہے،شوہر کے ان الفاظ سے کہ "تم میری طرف سے فارغ ہو" یا خلع کے کاغذات پر دستخط کرنے کے بعد سے ؟
جواب
شریعتِ مطہرہ کی رو سے صریح الفاظ کی طرح کنائی الفاظ سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، بشرطیکہ شوہر نے کنائی الفاظ سے طلاق کی نیت کی ہو، یا غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے ہوں، یا مذاکرۂ طلاق کے وقت یہ الفاظ استعمال کیے ہوں۔ کنائی الفاظ کہنے سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے، جس سے دونوں کا رشتہ ختم ہوجاتا ہے، اور شوہر تجدیدِ نکاح کے بغیر عورت کے قریب نہیں جاسکتا۔نیز اگر شوہر ایک طلاقِ بائن دینے کے بعد دوسری طلاقِ بائن دے دے، یا طلاقِ بائن کے بعد بیوی خلع لے لے، تو اس دوسری طلاقِ بائن یا خلع کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، کیونکہ پہلی طلاقِ بائن سے ہی دونوں کا رشتہ ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ رشتہ ختم ہوجانے کے بعد دوبارہ طلاق یا خلع کا کوئی معنی نہیں رہتا۔ اس لیے بیوی کی عدت کا اعتبار بھی پہلی طلاق سے ہی ہوگا۔ لہٰذا جب پہلی طلاق کے بعد تین حیض گزر جائیں، تو عورت کی عدت ختم ہوجائے گی۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق، اگر واقعی شوہر نےغصہ کی حالت میں یہ الفاظ کہے ہوں کہ "تم میری طرف سے فارغ ہو، میرا اور تمہارا رشتہ ایک کاغذ کا ہے، تم اپنا سامان پیک کرو، میں آج تمہارا ٹکٹ کراکے پشاور بھیجتا ہوں"، تو چونکہ یہ الفاظ کنایہ کے اس قبیل سے ہیں،جب غصہ کی حا لت میں بولے جائیں، تو بلا نیت طلاق بھی ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے ،اس لیے جس دن شوہر نے یہ الفاظ کہے، اسی دن سے سائلہ کی عدت شمار ہوگی۔
قال رحمه الله (لا تطلق بها إلا بنيته أو دلالة الحال) أي لا تطلق بالكنايات إلا بأحد هذين الأمرين؛ لأن ألفاظ الكنايات غير مختصة بالطلاق بل تحتمله وغيره فلا بد من المرجح..... قال رحمه الله (وهي) أي غير الثلاثة الأول من الكنايات (بائن بتة بتلة حرام خلية برية حبلك على غاربك الحقي بأهلك وهبتك لأهلك سرحتك فارقتك أمرك بيدك اختاري أنت حرة تقنعي تخمري استتري اغربي اخرجي اذهبي قومي ابتغي الأزواج)؛ لأن هذه الجملة تحتمل الطلاق وغيره فلا بد من التعيين ليتبين الحال.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب الطلاق،باب الكنايات،ج:2،ص:215-216)
وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الخامس ،ج: 1، ص:375)
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح ..... (لا) يلحق البائن (البائن).(الدر المختار مع تنوير الأبصار ،كتاب الطلاق ،باب الكنايات،ج:3،ص:306 -308)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں