بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کم عمری میں شادی پر قانونی پابندی لگانے کا شرعی تجزیہ


سوال

اسلام آباد میں ” اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کم عمری کی شادی کی ممانعت بل 2025 نافذ کیا گیا ہے جس میں مندرجہ ذیل دفعات شامل کی گئی ہیں۔

۱۔کوئی نکاح رجسٹرار ایسی شادی رجسٹر نہیں کرے گا جس میں ایک یا دونوں فریق اٹھارہ برس سے کم عمر ہوں۔۲۔خلاف ورزی کرنے والے کو ایک سال تک قید سادہ یا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں، الا یہ کہ وہ ثابت کرے کہ اسے یقین تھا کہ یہ شادی کم عمری کی شادی نہیں ہے۔۳۔ جو بھی شخص اٹھارہ برس سے زائد عمر کا مر دہو اور کم عمری کی شادی کرے، اسے دو سے تین سال تک قید سخت اور جرمانہ ہو گا۔۴۔ جو والدین، سر پرست یا کوئی اور شخص کسی بھی حیثیت میں کم عمری کی شادی یا استحصال میں معاون ہو یااسے روکنے میں غفلت کرے، اسے دو سے تین سال قید سخت اور جرمانہ ہو گا۔۵۔اگر کوئی شخص ممانعتی حکم کی خلاف ورزی کرے تو اسے ایک سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

اس بل کے مطابق اٹھارہ (18) سال سے کم عمر لڑکے یا لڑ کی کی شادی ممنوع ہے اور اس پر مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ مفتیان کرام سے درج ذیل سوالات میں شرعی راہنمائی چاہیے:

ا۔ کیا حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کے نکاح کو ممنوع قرار دے؟۲۔ اسلام میں بلوغت کی عمر کیا ہے ؟۳۔ اگر کوئی لڑکی یالڑ کا اٹھارہ سال سے کم عمر ہے ، لیکن ان میں بلوغت کی علامات پائی جارہی ہیں اور وہ نکاح کر لیتے ہیں تو شرعی طور پر ان کے نکاح کو ممنوع قرار دینا اور اس پر سزا مقرر کرنا درست ہے ؟۴۔ اگر لڑکی یا لڑ کا بالغ نہ ہوں اور والدین ان کا نکاح کریں تو کیا شرعی طور پر یہ ممنوع ہے ؟ اور کیا حکومت کوئی ایسا قانون بنا سکتی ہے کہ ایسے نکاح کو ممنوع قرار دے اور اس پر سزا مقرر کرے؟۵۔کیا مذکورہ قانون کے خلاف کیا ہو انکاح شرعی طور پر منعقد ہو جائے گا ؟

براہ کرم مذکورہ سوالات کے جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں عنایت فرمادیں۔

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے  کہ وہ عوام کے  تحفظ اور ان کے وسیع مفاد کے لیے ایسی قانون سازی کرے جس کے نتیجے میں  فساد اور ظلم و زیادتی کے دروازےبند ہوں اور عوام کو انصاف ملے۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے نبض پر ہاتھ رکھ کرمعروضی  حالات کا صحیح جائزہ لیا جائے اور سوچ سمجھ سے انصاف پر مبنی قوانین وضع کیےجائیں۔مملکت خداد ادپاکستان چونکہ اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے اور قرآن و سنت کے موافق قانون سازی کا التزام اس کے آئین کا لازمی حصہ ہے،اس لیے یہاں جو بھی قانون بنے اس میں مفاد عامہ کے ساتھ ساتھ قانونِ شریعت کی رعایت رکھنا بھی لازم ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ  یہ دونوں لازم ملزوم ہیں کیونکہ قرآن و سنت ہی انسانیت کو حقیقی عدل و انصاف فراہم کرنے کے ضامن ہیں ۔

          کم عمری  کی شادی سے متعلق حال ہی میں جو قانون نافذ کیا گیاہے اس میں اٹھارہ سال  سے کم عمر کی شادی کرنے،کروانے  اور رجسٹر کرنے پر پابندی لگاکر خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزا مقرر کی گئی ہے۔بظاہر یہ قانون سازی اس مقصد کے لیے کی گئی ہے کہ کم عمر ی کی شادی کی وجہ سے بچیوں  کے حقوق کا استحصال نہ ہواور ان کی زندگیاں کسی خود غرضی کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں،جیسا کہ بعض قبائلی معاشروں میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن یہ جائزہ لینا ضروری ہے  کہ کیا موجودہ قانون سازی اس کا سدِباب کرنے کے لیے درست اقدام ہے یانہیں۔

اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے جہاں اکثر یت مسلمانوں کی ہےاور اسلامی معاشرہ میں عفت و عصمت کے تحفظ کے لیے نکاح کا راستہ مشروع کیاگیا ہےاور اس کے علاوہ بد کاری کے تمام راستے حرام و ناجائز قرار دیے گئے ہیں اس لیے  یہاں کے  مسلمان عوام کے مفادات کا تحفظ اس میں ہے کہ نکاح کے راستے میں  کوئی ناجائز رکاوٹ کھڑی نہ کی جائے۔یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ بچہ اور بچی شرعاً پندرہ سال  تک بالغ ہوچکے ہوتےہیں یہ طبی طور  پر ثابت ہے اور فقہی لحاظ سے بھی مسلم ہے۔اس لیے پندرہ سال میں  بالغ ہوجانے کے بعد  لڑکا اور لڑکی کاایک دوسرے کی طرف میلان طبعی اور فطری طور پر پیدا ہوجاتاہے،اس میلان کے پیدا  ہوجانے کے بعد اس کے لیے اٹھارہ سال  کی عمر تک حلال راستہ بند رکھنا ہر گز ان کے مفاد میں نہیں بلکہ یہ ان کو حرام و ناجائز کی طرف مجبور کرنے کے مترادف ہے۔مادر پدر آزاد مغربی معاشروں میں   اگرایسے قوانین بنائے گئے ہیں تو اس لیے کہ  وہاں  حرام و حلال کی کوئی تمیز نہیں،وہاں فرینڈ شپ کے نام سے اکٹھے رہ کر خواہشات کی تکمیل کوئی جرم نہیں۔ لیکن ہمارا معاشرہ بالکل اس سے مختلف ہے  یہاں حرام و حلال کے حدود مقرر ہیں اور بد کاری کی  طرف لے جانے  والا ہر راستہ بند کرنے کا حکم ہے  اور یہاں ادنی اخلاقی جرم کا ارتکاب کرنے  سے انسان کا کردار داغ دار ہو کر عمر بھر کے لیے شرم اور رسوائی کا باعث ٹھہرتا ہے۔اس وجہ سے ا ُس آزاد معاشرے کا قانون اٹھا کر من و عن یہاں نافذ کرنا مفاد عامہ کا تحفظ  نہیں  بلکہ بظاہر یہ ایک ایسی نقالی ہے جس میں اپنے لبرل  ہونے کا ثبوت  دینا مقصود ہے۔

اس قانون کے نتیجے میں اٹھارہ سا ل سے کم  عمر کے بالغ لڑکوں اور لڑکیوں میں گناہ کا رجحان  بڑھنے کا قوی اندیشہ ہے بالخصوص آزاد میڈیا تک ہر کسی کی رسائی گناہوں پر اکسانے کے لیے جلتی پر تیل کے مترادف ہے ۔چنانچہ اس قانون میں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے؛اس لیے قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مسلمان معاشرہ کے معروضی حالات کے  تناظر میں اس قانون کی اصلاح ضروری ہے ۔

ذیل میں قرآن و سنت کے نصوص   اور فقہا و محدثین کے وہ ا قوال نقل کیے جاتے ہیں جن کی روشنی میں یہ بات ظاہر  ہے کہ کم عمر ی میں نکاح  پر شرعاً کوئی پابندی نہیں ہے۔قرآن مجید  میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ﴾(الطلاق:4)

 اس آیت کریمہ میں دو قسم کی عورتوں کی عدت کا حکم مذکور ہے : حیض سے ناامید ہونے والی عورت یعنی بوڑھی اور وہ لڑکی جس کو ابھی تک حیض نہ آیا ہو یعنی نابالغہ ہو۔ ظاہر ہے کہ عدت طلاق کے بعد ہوتی ہے اورطلاق نکاح کے بعد ہوتی ہے۔ تو معلوم ہو کہ اگر نابالغہ کے ساتھ نکاح ہو، پھر اسے طلاق دی جائے تو اس کی مدت تین ماہ ہوگی۔یوں اس آیت سے نا بالغہ کے نکاح کا جواز بالکل واضح ہے۔ امام بخاری اور ان کے علاوہ اکثر محدثین و مفسرین نے اس آیت سے نابالغہ کے نکاح کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح البخاری میں اس مسئلہ پر مستقل باب باندھ کر مذکورہ بالا آیت اور حضرت  عائشہ رضی اللہ عنها کے نکاح سے متعلق حدیث درج کی ہے۔ فرماتے ہیں :

‌باب ‌إنكاح ‌الرجل ‌ولده ‌الصغار:لقوله تعالى: {واللائي لم يحضن} فجعل عدتها ثلاثة أشهر قبل البلوغ.حدثنا محمد بن يوسف  قال: حدثنا سفيان ، عن هشام ، عن أبيه، عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوجها وهي بنت ست سنين، وأدخلت  عليه وهي بنت تسع، ومكثت عنده تسعا.(صحيح البخاري، كتاب النكاح، باب: إنكاح الرجل ولده الصغار،ج:10،ص:466،رقم الحديث:5133)

نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا جب کہ وہ ابھی نابالغ تھیں ۔ اسی طرح حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنی نا بالغ بیٹی کا نکاح کر وایا ، اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنهما نے اپنی چھوٹی صاحبزادی کا نکاح مشہور تابعی عروہ بن زبیر سے کروایا تھا۔ ان واضح دلائل کی بنیاد پر تمام فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر ولی نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح کروائے تو وہ منعقد ہو جائے گا۔ امام نووی، ابن حجر، ابن عبد البر، ابن المنذر ، ابن بطال اور ابن قدامہ نے اس کے جواز پر فقہائے کرام کا اجماع نقل کیا ہے کہ تمام مذاہب کے فقہا اسے جائز قرار دیتے ہیں۔(عبارات اور ان  کے حوالے آخر میں درج ہیں)

ہاں ! یہ ضروری ہے کہ اگر نابالغہ کانکاح کروایا گیاتو اس کی رخصتی اس وقت تک جائز نہیں جب تک وہ شوہر کے حقوق ادا کرنے کی متحمل نہ ہوئی ہو۔ اور  ظاہر ہے کہ اس لحاظ سے سب لڑکیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں بلکہ علاقہ، آب و ہوا، غذا، خاندان، جسمانی ساخت و غیرہ سے اس میں اختلاف ضرور واقع ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں عمر کی کوئی تحدید نہیں بلکہ جس عمر میں بھی ازدواجی زندگی کی  اہلیت پیدا ہو جائے تو اُس کی رخصتی کرنا جائز ہے۔ علامہ سرخسی فرماتے ہیں :

‌وفيه ‌دليل ‌أن ‌الصغيرة ‌يجوز أن تزف إلى زوجها إذا كانت صالحة للرجال فإنها زفت إليه وهي بنت تسع سنين فكانت صغيرة في الظاهر وجاء في الحديث أنهم سمنوها فلما سمنت زفت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم.(المبسوط للسرخسي كتاب النكاح،باب نكاح الصغير والصغيرة،ج:4،ص:213)

 لہذادرج بالا تفصیل کے مطابق سوالنامہ میں  مذکورہ سولات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔ چونکہ شریعت  میں نکاح کے جواز کے لیے کوئی عمر مخصوص نہیں کہ اس سے قبل کیا گیا نکاح غیر منعقد ہو اس  لیے حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کی تحدید کر کے اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے یالڑکی کے نکاح کو ممنوع قرار دے۔

۲۔لڑکی کی بلوغت کی کم سے کم عمر نو سال جبکہ زیادہ سے زیادہ عمر پندرہ سال ہے۔پندرہ سال کے بعد بھی اگربلوغت کی کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو  لڑکی  بالغہ شمار کی جائےگی اور اس پر بلوغ کے احکام نافذ ہوں گے۔اور  لڑکے کی بلوغت کی کم سے کم عمر بارہ سال ہے ،اس  کے بعد علامات ظاہرہوجائیں تو بالغ شمار ہوگا، ورنہ پندرہ سال کی عمر میں  وہ شرعاً بالغ کے حکم میں ہو  گا۔

۳۔ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کا نکاح اگر شرعاً معتبر طریقے سے منعقد ہو تو وہ شرعاً معتبر ہوگا اس لیے اس پر سزا دینا جائز نہیں۔

۴۔ اگر کسی نابالغ لڑکے یالڑکی  کا نکاح باپ یا دادا ذاتی مفادات کے حصول کے بغیر بچہ یا بچی کے بہترین مستقبل کے لیے کرائے تو وہ  نکاح شرعا ًمنعقد  ہوگا۔حکومت کوئی ایسا قانون نہیں بناسکتی جس میں شرعی طور پر جائز نکاح کو ممنوع قرار دیا جائےاور نہ  ہی اس پر شرعاً کوئی سزا دی جاسکتی ہے۔

۵۔شرعی اصول کے مطابق کیا گیا نکاح شرعی طور پر منعقد کہلائے گا اگر چہ وہ کسی  ملکی قانون کے خلاف ہو۔

 

قال الله تعالى:﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ﴾(الطلاق:4 )

أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب الهاشمية * ابن عبد المطلب بن هاشم الهاشمية، شقيقة الحسن والحسين. ولدت: في حدود سنة ست من الهجرة، ورأت النبي صلى الله عليه وسلم ولم ترو عنه شيئا. ‌خطبها ‌عمر ‌بن ‌الخطاب ‌وهي ‌صغيرة، فقيل له: ما تريد إليها؟ قال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "كل سبب ونسب منقطع يوم القيامة إلا سببي ونسبي".(سیرأعلام النبلاء،أم ‌كلثوم ‌بنت ‌علي بن أبي طالب الهاشمية ،ج:3،ص:500)

(‌بلوغ ‌الغلام ‌بالاحتلام والإحبال والإنزال) والأصل هو الإنزال (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل) ولم يذكر الإنزال صريحا لأنه قلما يعلم منها (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنة به يفتى) لقصر أعمار أهل زماننا(وأدنى مدته له اثنتا عشرة سنة ولها تسع سنين) هو المختار كما في أحكام الصغار.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب المأذون،باب بلوغ الغلام بالاحتلام،ج:6،ص:153)

وروى الأثرم، أن قدامة بن مظعون تزوج ابنة الزبير حين نفست، فقيل له، فقال: ابنة الزبير ‌إن ‌مت ‌ورثتنى، ‌وإن ‌عشت ‌كانت ‌امرأتى.( المغني لابن قدامة،مسألة ‌وإذا ‌زوج ‌الرجل ‌ابنته ‌البكر،ج:9، ص:398)

وعن أبي الأسود أن عبد الله بن عمر زوج بنته سودة من عروة.(تاريخ الإسلام للذهبي،‌‌الطبقة العاشرة، ج:6،ص:243)

 وأجمع المسلمون على جواز تزويجه بنته البكر الصغيرة لهذا الحديث.(شرح النووي على مسلم،كتاب النكاح ،باب جواز تزويج الأب البكر الصغيرة،ج:9،ص:209)

ولهذا السر أورد حديث عائشة قال المهلب أجمعوا أنه يجوز للأب تزويج ابنته الصغيرة البكر ولو كانت لا يوطأ مثلها.(فتح الباري،قوله باب إنكاح الرجل ولده الصغار،ج:9،ص:190)

قال أبو عمر ‌أجمع ‌العلماء ‌على ‌أن ‌للأب أن يزوج ابنته الصغيرة.(الاستذكارلابن عبدالبر، كتاب النكاح، باب استئذان البكر والأيم في أنفسهما،ج:5،ص:400)

أجمع العلماء على أنه يجوز للآباء تزويج الصغار من بناتهم، وإن كن فى المهد، إلا أنه لا يجوز لأزواجهن البناء بهن إلا إذا صلحن للوطء واحتملن الرجال.(شرح صحيح البخاري لابن بطال،كتاب النكاح،باب تزويج الصغار من الكبار،ج:7،ص:173)

مسألة؛ قال: ‌وإذا ‌زوج ‌الرجل ‌ابنته ‌البكر، فوضعها في كفاءة، فالنكاح ثابت، وإن كرهت، كبيرة كانت أو صغيرة. أما البكر الصغيرة، فلا خلاف فيها. قال ابن المنذر أجمع كل من نحفظ عنه من أهل العلم، أن نكاح الأب ابنته البكر الصغيرة جائز.( المغني لابن قدامة،مسألة زوج الرجل ابنته البكر فوضعها في كفاءة،ج:7، ص:40)


فتویٰ نمبر : 7282/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں