بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سسر کا اپنی بہوؤں کو مکان مہر میں لکھ کر دینا


سوال

ہم چار بھائی اور تین بہن ہیں ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ایک مکان واقع سکندر پورہ پشاور شہر جس میں ہماری رہائش ہے اس مکان کو والد نے چار بہؤوں میں 1/4کے حساب سے لکھ كر اس كا باقاعدہ قبضہ بھی دیا ہے،ہر ایک کے متعلق بیان درج ذیل  ہے:

1۔"اب 1/4حصہ بخوشی خود بخود تملیک بعوض حق مہر بنام زوویہ انور لکھ دیتا ہوں۔آئیندہ من مقر ومیرے دیگر ورثا کا 1/4حصہ مکان مذکورہ بالا کے ساتھ کسی قسم کا کوئی واسطہ اور تعلق باقی نہ رہا اور نہ ہوگا۔"

2۔ "لہذا 1/4حصہ مکان بموجب رسوم اسٹامپ مالیتی ساٹھ ہزار روپیہ بر آباد 525فٹ از منجملہ سالم مکان مذکورہ بالا بعوض حق مہر بہو ام مذکورہ مسماۃ فرزانہ اشرف بنت حاجی محمد اشرف زوجہ سعید احمد مذکور کے نام تملیک باقبضہ مع تحتِ زمین آبادی جملہ حقوق متعلقہ آں منتقل کردیا ہے۔"

3۔"من مقر ام مسماۃ عذرا شاہین دختر فضل محمد افضل کی خدمات سے خوش ہوں،لہذا بخوشی خود جائیداد مذکورہ بالا میں سے ایک چوتھائی حصہ 525مربع فٹ مالیتی دس ہزار روپیہ ہبہ کرکے قبضہ جائیداد موہوبہ حوالہ کردیا ہے۔"

4۔چوتھی بہو کے متعلق جو اسٹامپ پیپر لکھوایا گیا تھا وہ نہیں مل سکا ،لیکن ان کے متعلق بھی تقریبا اس طرح بیان دیا تھا۔

ان اسٹامپ پیپروں کا سب بہن بھائیوں کو علم تھا اب والد صاحب کی وفات کےکیا یہ وراثت شمار ہوکر سب ورثا میں تقسیم ہوگا یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے مہر کی ادا ئیگی خاوند کی ذمہ داری ہے نہ کہ والد کی ،تاہم والد کا از خود بیٹے کی طرف سے بہو کو مہر ادا کرنا ایک تبرع ہے جس کے پورے ہونے کیلئے عورت کی طرف  سے اس پر قبضہ کرنا ضروری ہے،لیکن اگر سسر نے  اپنی بہو کو مہر  ادا کرنے کی ذمہ داری اور ضمان قبول کر کے اس کے نام مکان لکھا ہوتو ایسی صورت میں  قبضہ دینے کے بغیر بھی اس مکان  پر ملکیت اس بہو کو حاصل ہوگی۔

صورت مسؤلہ میں اگرمذکورہ بیانات حقیقت پر مبنی ہوں تو باپ نے بیٹوں کی طرف سے مہر کا ضامن بننے کے بغیرچاربہوؤں میں سے جن کو1/4 کے حساب سے گھر بطور مہر لکھ کر دیا تھا تو اگر واقعی ہر بہو کو الگ الگ حصہ دیا تھا اورباقاعدہ انہوں نے اپنےاپنےحصہ پر قبضہ بھی کر لیا تھا تواس صورت میں گھر کا جو حصہ جس کو دیا تھا وہ اُسی کا حق ہے،لہذا کوئی اس میں وراثت کا مطالبہ نہیں کرسکتا ،لیکن اگر باقاعدہ قبضہ نہیں  دیا گیا تھا،توپھر یہ گھر باپ کی ملکیت سے نہیں نکلا ،لہذا پھروراثت شمار ہوکر تمام ورثا کا حصہ بنے گا۔

 

(وصح ضمان الولي مهرها ولو)المرأة(صغيرة)ولو عاقدا لأنه سفير(وتطالب أيا شاءت)من زوجها البالغ أو الولي الضامن(فإن أدى رجع على الزوج إن أمر). (الدر المختار شرح تنوير الأبصار،كتاب النكاح ،باب المهر،ج:4،ص:286)

(وتتم)الهبة(بالقبض)الكامل(قوله: بالقبض)‌فيشترط ‌القبض ‌قبل ‌الموت،ولو كانت في مرض الموت للأجنبي كما سبق في كتاب الوقف كذا في الهامش. (ردالمحتارمع الدرالمختار،كتاب الهبة،ج5،ص690)

وفي البزازية ‌إذا ‌أعطى ‌الأب ‌أرضا في مهر امرأته ثم مات الأب قبل قبض المرأة لا تكون الأرض لها؛لأنها هبة من الأب لم تتم بالتسليم فإن ضمن المهر وأدى الأرض عنه ثم مات قبل التسليم كانت الأرض للمرأة؛لأنه بيع فلا يبطل بالموت.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب النكاح، باب المهر،ج:3،ص:188)

[فرع] في الفيض:ولو أعطى ‌ضيعة ‌بمهر ‌امرأة ‌ابنه ولم تقبضها حتى مات الأب فباعتها المرأة لم يصح إلا إذا ضمن الأب المهر ثم أعطى الضيعة به فحينئذ لا حاجة إلى القبض. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح،باب المهر،ج:3،ص:143)


فتویٰ نمبر : 7281/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں