بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شوہر کا طلاق سے انکار کرنا


سوال

اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو زبانی طور پر تین طلاق دے دے اور وہ پھر اس سے انکار کرے،جب کہ بیوی کے پاس گواہ  بھی نہ ہوں، ازروئے شریعت بیوی کے لیے کیا کرنا چاہیئے؟ کیونکہ اسے معلوم ہےکہ شوہرنے مجھےتین طلاقیں دی ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی عورت یہ کہے کہ شوہر نے مجھے طلاق دی ہے،تو یہ اس کی طرف سے دعوی ہے اور دعوی ثابت کرنے کے لیے گواہ پیش کرنا ضروری ہے، پس عورت کے لیے باقاعدہ گواہ پیش کرنا ضروری ہے،جو دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں،اس کے گواہ پیش کرنے یا مدعی علیہ (شوہر) کے اقرار کی صورت میں عورت کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا،اور اگر عورت کے پاس گواہ نہ ہو تو شوہر کو قسم دی جائے گی،اگر شوہر قسم کھالے تو عورت دعوی کے اثبات میں قاصر رہے گی ،جس کی روشنی میں بیوی،بیوی رہے گی تاہم اگر بیوی کو یقین ہو کہ شوہر نے مجھے طلاق دی ہے اور اب جھوٹی قسم کھاتا ہے،تو عورت حتی الوسع خاوند کو قدرت کا موقع نہ دے اگر کوشش کے باوجود کسی طرح بھی جان نہ چھوٹے تو اس صورت میں عدالت میں تنسیخ نکاح کے لئے درخواست دے کر حکومتی ضابطہ کے ذریعے جان چھڑا سکتی ہے،اس کے بعد بھی اگر کامیاب نہ ہوئی تو عورت معذور تصور ہوگی،اور شوہر گناہ گار ٹھہرے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر عورت کو اپنی بات پر یقین ہو کہ شوہر نے اسے تین طلاقیں دی ہیں،اور اب وہ انکار کرتا ہے،جب کہ عورت کے پاس گواہ موجود نہیں،تو یہ عورت کسی بھی ممکنہ طریقے سے شوہر سے جان چھڑانے کی کوشش کرے،یا پھر عدالت میں تنسیخ نکاح کی درخواست دائرکرے۔

 

وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه.(الفتاوی الهندية،كتاب الكراهية،الباب الأول،الفصل الثاني،ج:5،ص:361)

وقال الأوزجندي: ‌ترفع ‌الأمر للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالإثم عليه.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار،كتاب الطلاق،باب الرجعة،ج:5،ص:55،56)


فتویٰ نمبر : 7299/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں