بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی لڑکی کوارادہ جماع کے بغیرشہوت سے چھوکرپھراس سےاپنے بیٹے کا نکاح کروانا


سوال

ایک لڑکی کا اپنےماموں کےبیٹےسےرشتہ طےہواہے،لیکن اس لڑکی کےماموں نےاس لڑکی کوبنا کسی حائل کے سینےاور پیٹ وغیرہ کےحصے پرتین مرتبہ شہوت سے چھوا ہے،جب کہ لڑکی اس وقت سورہی تھی چھونے والے کا کہنا ہےکہ چھونے سے اس کو انتشار ہوا تھا،لیکن اس کی نیت میں ارادہ جماع نہیں تھا۔کیااس صورت میں اس لڑکی کا اس ماموں کے بیٹےسےنکاح درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی مشتہاۃ عورت کو بغیرکسی حائل کے یا ایسے بار یک کپڑےکے ساتھ شہوت سے چھولےکہ جس سے بدن کی حرارت محسوس ہوتی ہویااگر پہلےسےشہوت موجود ہوتواس میں اضافہ ہوجائےاورعورت کی طرف رغبتِ جماع بھی ہو تواس سےحرمت ِمصاہرت ثابت ہوجاتی ہےاور ان پر ایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہوجاتے ہیں،لیکن اگربغیرشہوت کےمس کرے یا شہوت کےساتھ ہو،لیکن درمیان میں اتنابڑاحائل موجود ہوکہ جس سے بدن کی حرارت محسوس نہ ہوتی ہو یا پہلے سےموجود شہوت میں اضافہ نہ ہواہوتوپھرحرمت ِمصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرماموں نے اپنی بھانجی کوبغیرکسی حائل کے شہوت کےساتھ تین مرتبہ چھوا تھااورچھونےسےانتشاربھی ہواتھا،تو اس کایہ فعل (تین مرتبہ چھونا)عورت کی طرف رغبتِ جماع کوہی ظاہرکرتا ہے،ایسی صورت میں ارادہ جماع کا انکارکرناحرمت ِمصاہرت سےبچنےکا بہانہ معلوم ہوتا ہے۔لہذا حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی اور لڑکی کے لیےماموں کےبیٹےسےنکاح کرناجائزنہ ہوگا۔

 

ثم المس إنمايوجب‌حرمة‌المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب،أما إذاكان بينهماثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة۔۔۔ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة،كذا في التبيين.ولو مس فأنزل لم تثبت به حرمة المصاهرة في الصحيح؛لأنه تبين بالإنزال أنه غير داع إلى الوطيء۔(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب الثالث في بيان المحرمات،ج:1،ص:340،341)

قال عامة العلماء: ‌الشهوة ‌أن ‌يميل ‌قلبه ‌إليها ‌ويشتهي ‌أن ‌يواقعها، كذا في قاضي خان۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام،كتاب النكاح، نكاح مسلم ذمية عند ذميين،ج:1،ص:330(

‌وحد ‌الشهوة ‌في ‌الرجل ‌أن ‌تنتشر ‌آلته ‌أو ‌تزداد ‌انتشاراً ‌إن ‌كانت ‌منتشرة، ‌كذا ‌في ‌التبيين،وهو الصحيح۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب النکاح، القسم الثاني المحرمات بالصهریة، ج:1،ص:274(


فتویٰ نمبر : 7303/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں