بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
ہبہ میں اکراہ کرنا
سوال
اگر کسی آدمی پر ہبہ کرنے میں اکراہ کیا جائے تو ایسے آدمی کا ہبہ صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہےکہ اگر کسی کو بلا عوض کسی چیز کا مالک بنانا "ہبہ" کہلاتا ہے۔ ہبہ میں واہب (ہبہ دینے والے) کی رضامندی ضروری ہے کیونکہ واہب کی رضامندی کے بغیر ہبہ درست نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی کو ہبہ کرنے پر مجبور کیا جائے اور وہ ہبہ کر دے، تو وہ ہبہ درست نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہبہ کرنے میں واہب کی رضامندی شرط اور ضروری ہے۔ لہٰذا ایسا ہبہ صحیح نہیں ہے۔
يلزم في الهبة رضا الواهب فلا تصح الهبةالتي وقعت بالجبر والإكراه۔)شرح المجلة، الباب الثاني في شرائط الهبة، مادة: 860، ص: 472)
قال لها وهي لا تعلم العربية: قولي وهبت مهري منك، فقالت: وهبت، لا يصح بخلاف الطلاق والعتاق، ولهذا لو أكره على الهبة فوهب لا تصح، كذا في الوجيز للكردري. ولو وهبت المرأة شيئا لزوجها وادعت أنه استكرهها في الهبة تسمع دعواها، كذا في فتاوى قاضي خان. وإذا أرادت المرأة أن تهب مهرها ثم لها أن تعيد المهر على الزوج فتصالح عن المهر على اللؤلؤة أو على الثوب ولا تراه فتبرئ الزوج ثم رأت ذلك الشيء فردته بخيار الرؤية عاد المهر على الزوج ولو ماتت لزم العقد وبطل خيار الرؤية، كذا في خزانة الفتاوى. (الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب الحادي العشر في المتفرقات، ج: 4، ص: 403)
رجل قال لامرأته قولي وهبت المهر منك فقالت وهبت وهي لا تعلم العربية لا يصح بخلاف الطلاق والعتاق لأن الرضا شرط جواز الهبة لا شرط وقوع الطلاق والعتاق ولهذا لو أكره على الهبة فوهب لا تصح وقال الفقيه أبو الليث لا يقعان أيضا إذا عرف بالجهل۔ رجل قال لآخر هب لي هذا الشيء على وجه المزاح فقال وهبت فقبله وسلمه جاز۔ (لسان الحكام في معرفة الأحكام، الفصل التاسع عشر فی الهبة، ص:370)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں