بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ہندؤں کے ساتھ ایک محلے میں رہائش اختیار کرنا


سوال

میں ایک سرکاری دفتر میں ملازمت کرتا ہوں۔ ان کی طرف سے جو سرکاری گھر ملا ہے، اس بلاک میں اوپر، نیچے اور برابر میں ہندو ملازمین رہتے ہیں۔ مجھے بھی وہیں پر رہائش ملی ہے۔ بہت کوشش کے باوجود کوئی متبادل دستیاب نہیں ہو سکا۔ میں کرایہ کے مکان میں رہتا ہوں لیکن اب مزید کرایہ برداشت نہیں کر سکتا۔کیا   اس گھر میں رہنا میرے لئے جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جب کسی  جگہ پر ہندوں کے ساتھ رہائش اختیار کرنے کی وجہ سے   دین ومذہب کو کوئی خطرہ لاحق  نہ ہو تو ایسی صورت میں انکے ساتھ  محلے میں رہائش اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق سائل کو  رہائش کے لئے  حکومت کی طرف سے جو گھر ملاہے  اس میں رہائش اختیار کر سکتا ہے۔

 

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "‌الجيران ‌ثلاثة: ‌فمنهم ‌من ‌له ‌ثلاثه ‌حقوق، ومنهم من له حقان، ومنهم من له حق فأما الذي له ثلاثه حقوق فالجار المسلم القريب له حق الجوار، وحق الإسلام وحق القرابة، وأما الذي له حقان فالجار المسلم، له حق الجوار، وحق الإسلام، وأما الذي له حق واحد فالجار الكافر، له حق الجوار.(شعب الإيمان ،باب إکرام الجار ،ج:12،ص:105)


فتویٰ نمبر : 6500/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں