بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کمپنی کے ممبرز بنانے پر منافع لینے کی شرعی حیثیت


سوال

میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہو، جس کی آمدنی کا طریقہ کار یوں ہے کہ مثلاً:زید اس کمپنی کا ممبر ہے اور اس نے بکر کو بغیر کسی معاوضے کے اس کمپنی کا ممبر بنایا، پھر بکر نے عمر کو ممبر بنایا۔ اب بکر اس کمپنی کا جو بھی چیز خریدتا ہے تو زید کو اس کی قیمت میں کمیشن ملے گی۔ اسی طرح عمر بھی اگر کوئی سامان خریدتا ہے تو بکر کو کمیشن ملے گی اور زید کو بھی،  اگر چہ عمر کو زید نے کبھی دیکھا بھی نہیں۔ اسی طرح اگر عمر آگے کسی اور کو ایڈ کرےگا تو وہ بندہ کچھ بھی خریدے تو عمر، بکر اور زید ميں سے ہر ایک کو کمیشن ملتی رہے گی، نیز اس کمپنی میں وراثت بھی چلتی ہے، مثلا اگر زید فوت ہوا تو یہ سارا پراسس اس کے بیٹے کی طرف منتقل ہو جائے گا یعنی یہ ختم نہیں ہوگا بیٹے کے بعد پوتے کو لہذا اس آمدنی کا کیا حکم ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ نے اپنی محنت اور عمل کی کمائی حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے اور اس کو افضل کمائی قراردیا ہے، جب کہ بلا محنت کی کمائی کی حوصلہ شکنی کی ہے۔  نیز ضرورت اور کثرتِ تعامل کی بنا پربلاواسطہ کمیشن کی اجازت دی گئی ہے، لیکن بالواسطہ کمیشن لینا جائز نہیں ۔

  صورتِ مسئولہ میں کمپنی سے کمیشن ملنے کا جو طریقہ کار ہے، کہ نئے ممبر بننے پر ان کی خریداری میں اوپر کے تمام ممبرز کو کمیشن ملتا ہے، چاہے وہ براہ راست اس نئے ممبر کو لانے والے ہوں یا اس سے اوپر کے ممبرز ہوں، کمیشن کی تقسیم کا  یہ طریقہ کار شرعا درست نہیں کیونکہ بالواسطہ ممبران  کی کوئی حقیقی محنت یا براہِ راست کردار نہیں  ہوتا کہ وہ کمیشن کے مستحق  ہو سکیں، نیز ملٹی لیول مارکیٹنگ کی بنیاد پر چلنے والی کمپنیوں کا  بنیادی مقصد عموماًاس ممبر سازی سے پیسے کمانا ہوتا ہے۔ حقیقی  کاروبار یا خرید وفروخت مقصود نہیں  ہوتی، شرعا اس طرح  ممبر سازی کو کاروبا رکی شکل دے کر اس پر نفع کمانا جائز نہیں ۔

 

عن سعيد بن عمير الأنصاري قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أيُّ الكسب أطيب؟ قال: "عمل الرجل بيده، وكلّ بيعٍ مبرورٍ. (شعب الإيمان، باب التوكل بالله عز وجل والتسليم لأمره تعالى في كل شيء، ج:2، ص:434)

وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. (الدر المختار، کتاب الإجارة، ص:569)

 فلو جوزناه لكان استحقاقا بغير عمل ولم يرد به الشرع. (الهدایة،کتاب المساقاۃ، ج:4، ص:430)

وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً؛ لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:6، ص:63)


فتویٰ نمبر : 6665/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں