بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح کےبعد رخصتی سے پہلے شوہر پر جنون طاری ہونا


سوال

کریم کا نکاح ہوا لیکن رخصتی سے پہلے لڑکے  کا ذہنی توازن خراب ہوا  اور والدین نے اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگائی، ڈاکٹر کے پاس لے گیا اور دوائی دی ۔ دوائی کھانے سے تھوڑا سا فرق   آتا  ہے لیکن  جنون کی حالت برقرار رہتی ہے اور نماز بھی نہیں پڑھتا اگرچہ موجودہ حالت پیش ہونے سے پہلے نماز کا بہت پابند تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ بجلی شاٹ لگائے گئے لیکن کوئی فاقہ نہیں ہوا۔مزید یہ کہ ایک موقع پر ایک رشتہ دار کو پکڑ کر اس کا گلہ دبایا لیکن شور مچاکر لوگوں نے اس کے پنجے  سے نکالا۔اسی طرح ایک اور موقع پر ایک دوسرے رشتہ دار کو پکڑ کر اس کا گلہ دبایا لیکن لوگوں نے بچایا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ حالات کے پیش نظر مندرجہ ذیل امور کا شرعی حکم کیا ہے: 1۔  لڑکی  اس  مجنون  شوہر  کو حوالہ  کرنا جائز ہے؟ جبکہ لڑکی کو قتل کرنا یقینی ہے۔ نیز  وہ لڑکا نان ونفقہ پر بھی قادر نہیں۔ 2۔ اگر لڑکے کے والدین لڑکی کی رخصتی پر مصر ہو  تو کیا ان کا یہ مطالبہ اور اصرار از روئے شرع درست ہے؟3۔اگر لڑکا  موجودہ حالت(جنون) میں طلاق دیدے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے؟4۔ اس صورت حا ل میں  عدالت سے طلاق کی ڈگری لے کر از روئے شرع طلاق شمار ہوکر دوسری جگہ لڑکی نکاح کرسکتی ہے؟ 6۔لڑکی کی خلاصی کیلئے از روئے شرع اگر کوئی اور متبادل راستہ ہو تو وہ بھی تحریر فرمائیں۔

جواب

جاننا چاہیے کہ شرعی طریقے سے گواہان کی موجودگی میں نکاح منعقد ہونےکے بعد اگر شوہرپر جنون طاری ہوجائے تو عورت عدالت کو مطلع کرے گی پھر قاضی علاج کےلیے مرد کو ایک سال تک مہلت دے گا اس کے بعد بھی اگر افاقہ نہ ہوا توبیوی کے مطالبہ پر قاضی ان کے درمیان تفریق کرکے نکاح فسخ کرنے کا حق رکھتاہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق 1۔اگر شوہر کا جنون اس حد تک پہنچ چکا ہو کہ عورت حوالے  کرنے پر اس کی جان کو خطرہ ہواور نان نفقہ بھی پورا کرنے پر قادر نہ ہو تو قاضی کی طرف  سے اس کو  ایک سال تک علاج کے لیے مہلت دی جائے گی  پھر بھی اگر افاقہ نہ ہوسکا تو  عورت کی رضامندی کے بغیر ایسے آدمی کو عورت حوالہ کرناجائز نہیں  پس اگر وہ عورت شوہر سے اپنا نکاح فسخ کرنا چاہتی ہو توعدالت کی طرف رجوع کرے گی،عدالت مکمل تحقیقات کے بعد  شوہر کا جنون ثابت ہونے پر اس کو تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کرسکتی ہے۔

2۔ اگر  شوہر کا جنون اس حد تک پہنچا ہوکہ  عورت حوالہ کرنے پراس کی زندگی خطرے میں پڑتی ہو تو لڑکے کے والدین کا لڑکی  کی رخصتی پر اصرار کرنا شرعاً جائزنہیں ۔

3۔اگر شوہر بیوی کو جنون کی حالت میں طلاق دے تو طلا ق واقع نہیں ہوگی  کیونکہ مجنون آدمی تصرف کا اہل نہیں ہوتا ۔4۔عدالت سے فسخ نکاح کی ڈگری حاصل کرکے عورت عدت گزار کردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

5۔اس صورت حال  میں  کہ اگر اس عورت کا شوہر واقعی مجنون ہو اوروہ اچھے برے کی تمیز نہ کرسکتاہواور جنون بھی اس حد تک ہو کہ بیوی کا اس کے ساتھ رہنا ممکن نہ ہواور اس کے قتل ہونے کا خدشہ ہوتو قاضی کی طرف اس کو ایک سال تک علاج معالجہ کے لیے مہلت دی جائے گی  پھر بھی اگر جنون زائل نہ ہوا تو اس عورت کو شرعا اجازت ہے کہ وہ عدالت کی طرف رجوع کرلے،عدالت مکمل تحقیقات کے بعد شوہر کا جنون ثابت ہونے پر  اس کو تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کرسکتی ہے اس کے بعد عدت گزار کر کسی دوسری  جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔

 

قال محمد - رحمه الله تعالى - ‌إن ‌كان ‌الجنون ‌حادثا يؤجله سنة كالعنة، ثم يخير المرأة بعد الحول إذا لم يبرأ، وإن كان مطبقا فهو كالجب وبه نأخذ كذا في الحاوي القدسي.(الفتاوى الهندية ،ج:1،ص:526)

فلا يقع ‌طلاق ‌المجنون والصبي الذي لا يعقل لأن العقل شرط أهلية التصرف لأن به يعرف كون التصرف مصلحة وهذه التصرفات ما شرعت إلا لمصالح العباد.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:3،ص:99)

امام محمد ؒ کے نزدیک اس کویہ حق حاصل ہے کہ قاضی کے یہاں درخواست دے کر تفریق کا مطالبہ کرے اور اپنے آپ کو مجنون کی زوجیت سے علیحدہ کرالے بشرطیکہ جنون اس درجہ کا ہو کہ اس کے ساتھ رہنا قدرت سے خارج ہو مثلا اس سے قتل کا اندیشہ ہو۔ (الحيلة الناجزة للحليلة العاجزة،حکم زوجہ مجنون ،ص:74،75)


فتویٰ نمبر : 7298/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں