بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی ادائیگی میں جی پی فنڈ سے لیےگئےقرضہ کو منھا کرنا


سوال

جی پی فنڈ سے لیا گیا قرضہ جوواپس کرناہے،تو کیا  زکوۃ ادا کرتے وقت اس کومنھاکر کے باقی مالیت سے زکوۃ اداکرنا ہوگا یا اس  کی بھی زکوۃ ادا کرنا لازم ہے؟ اگر لازم ہےتو پورایا صرف ایک سال کی قسطوں کا؟

جواب

جی پی فنڈ وہ رقم ہے جو ملازمین کی تنخواہ سے ہر ماہ مخصوص مقدار میں کاٹی جاتی ہے اور مدت ملازمت ختم ہوتے وقت یہ رقم بمع کچھ اضافے کےملازم کودی جاتی ہے۔اگر ملازم مدت ملازمت کے دوران جی پی فنڈ سےقرض وصول کرے اور اس پر قسطوں میں وہ واپس کرنا لازم ہوتو یہ  ادارے کا مقروض متصور کیا جائے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق جوشخص مدت ملازمت کے دوران جی پی فنڈ سے قرضہ لےاور اس کی واپسی اس پر لازم ہو تو ایہ آدمی مقروض شمار ہوگالہذا نصاب سے اس قرض کو منھا کیا جائے گا۔

 

وأما قوله تعالى:{والغارمين} [التوبة: 60] قيل: ‌الغارم ‌الذي ‌عليه ‌الدين ‌أكثر من المال الذي في يده أو مثله أو أقل منه لكن ما وراءه ليس بنصاب.(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،ج:2ص:471)

‌ومن ‌كان ‌عليه ‌دين ‌يحيط ‌بماله فلا زكاة عليه " وقال الشافعي رحمه الله تجب لتحقق السبب وهو ملك نصاب تام ولنا أنه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدوما كظماء المستحق بالعطش وثياب البذلة والمهنة " وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا " لفراغه عن الحاجة والمراد به دين له مطالب من جهة العباد حتى لا يمنع دين النذر والكفارة ودين الزكاة مانع حال بقاء النصاب لأنه ينتقص به(الهداية،كتاب الزكاة،ج؛1ص:95)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں