بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ماں کےرضاعی بھائی سے شادی کرنا


سوال

فاطمہ نے اپنے بیٹے "زید"کے ساتھ ایک اور لڑکی "عائشہ "کو دودھ پلایا،اس عائشہ کی بیٹی "سائرہ"کافاطمہ کے اور بیٹوں مثلاعمر،بکر،احمد میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

جب کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو وہ خاتون اس بچے کی رضاعی ماں   اور اس کی تمام اولاد اس بچے کے رضاعی  بہن بھائی بن جاتے ہیں ۔

لہذاصورت مسئولہ میں اگر فاطمہ نےعائشہ کو دودھ پلایا ہو ، تو فاطمہ کےتمام بیٹے عائشہ کے رضاعی بھائی ہیں اور عائشہ کی بیٹی سائرہ کے رضاعی ماموں بن  گئے اس لیے سائرہ کافاطمہ کے بیٹوں میں سے کسی کےساتھ بھی نکاح جائز نہیں ۔

 

عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم في بنت حمزة:"لا تحل لي، يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب، هي بنت أخي من الرضاعة".(صحيح البخاري،باب الشهادة على الأنساب والرضاع،حديث:2645)

"ولا يتزوج المرضعة أحد من ولد التي أرضعت " لأنه أخوها " ولا ولد ولدها " لأنه ولد أخيه"(الهداية،كتاب الرضاع،ج:4،ص:124)


فتویٰ نمبر : 7280/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں