بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

وکیل کا تعلقات کی بنا پر رعایت میں ملی رقم اپنے لیے رکھنا


سوال

ایک لڑکے نے کالج میں 70 ہزار روپے پر ایڈمیشن کی بات کرلی ،پھر اس کی ماں نے وہ پیسے مجھے دیدیے کہ یہ کالج میں جمع کردو ،میرے چونکہ کالج کے اس بندے کے ساتھ تعلقات تھے اس وجہ سے اس نے مجھ سے 55 ہزار لے لیے،تو کیا یہ باقی پیسے میں اپنے لیے رکھ سکتا ہوں؟ یا اس کا واپس کرنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جس طرح ایک شخص اپنے معاملات خود نمٹا سکتا ہے اسی طرح   کسی کو وکیل بنا کر  اس کے ذریعے بھی   معاملات طے کرسکتا ہے ،وکیل چونکہ امین ہوتا ہے اس لیے وکیل جتنی رقم خرچ کرے  اتنی  ہی رقم موکل سے  لے گا ، اگر وکیل  کو کسی قسم کی رعایت مل جائے، تویہ رعایت  موکل ہی کا حق ہوگا ،لہذا اتنی مقدار موکل کو واپس کرنا ضروری ہوگا،وکیل کےلیے رعایت میں بچی ہوئی رقم خود لینا جائز نہیں،ہاں اگر وکیل موکل کو  یہ رقم واپس کردے اور پھر وہ اپنی طرف سے وکیل کو کچھ دیدے تو وہ  اس کے لیے لینا جائز ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل کو اس عورت نے اپنے بیٹے کے ایڈمیشن کے لیے 70 ہزار روپے دیے تھے اور سائل سے کالج والوں نے تعلقات کی بنا 55 ہزار لے لیے ،تو یہ باقی پیسے اس عورت کا حق ہے ،اسی کو لوٹانا ضروری ہے ،سائل کے لیے ان پیسوں کا لینا جائز نہیں،ہاں اگر وہ اپنی طرف سے کچھ دے دے تو پھر اس کا لینا جائز ہے ۔

 

وإن ‌حط البائع عن الوكيل بعض الثمن فإنه يحطه عن الموكل ولو ‌حط البائع جميع الثمن لا يظهر ذلك في حق الموكل حتى كان للوكيل أن يرجع على الموكل بجميع الثمن ولو وهب البائع بعض الثمن عن الوكيل يظهر ذلك في حق الموكل حتى لم يكن للوكيل أن يرجع على الموكل بذلك القدر ولو وهب كل الثمن لا يظهر ذلك في حق الموكل ولو أبرأه البائع عن جميع الثمن فالجواب فيه كالجواب في هبة جميع الثمن كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،كتاب الوكالة، الباب الثاني في التوكيل بالشراء، ج:3، ص:588)

(المادة 257) زيادة البائع في المبيع والمشتري في الثمن وتنزيل البائع من الثمن بعد العقد تلحق بأصل العقد يعني يصير كأن العقد وقع على ما حصل بعد الزيادة والحط.( مجلة الأحكام العدلية، الكتاب الأول في البيوع، الباب الرابع، الفصل الثاني: في بيان التزييد والتنزيل في الثمن والمبيع بعد العقد، ص:53)


فتویٰ نمبر : 3944/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں