بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گدھے اور گھوڑے کےگوشت کا حکم


سوال

گدھے اور گھوڑے کاگوشت حلال ہے یا حرام دلیل شرعی کے ساتھ وضاحت فرمائیں؟

جواب

گدھے اور گھوڑے کےگوشت کا حکم

سوال:گدھے اور گھوڑے کاگوشت حلال ہے یا حرام دلیل شرعی کے ساتھ وضاحت فرمائیں؟

الجواب و باللہ التوفیق

احکام شرعیہ کے مختلف درجات ہیں ، ان میں سے ” مکروہ“ اور حرام بھی ہیں ، مکروہ کا معنی ہے نا پسندیدہ، فقہا کے یہاں اس کی دو قسمیں ہیں:تحریمی اور تنزیہی، مکروہ تحریمی کا ارتکاب شرعا جائز نہیں ہے، گناہ ہے، اس لیےسرزد ہوجانے کی صورت میں توبہ  لازم ہے۔اور مکروہِ  تنزیہی  وہ ہے جوحلال کے قریب ہوتا ہے،  یعنی اس  کا کرنا با عثِ سزا نہیں، لیکن نہ کرنابہتر ہے۔جبکہ حرام ممانعت میں مکروہ تحریمی سے اوپر کا درجہ ہے، اس کا ثبوت ایسےنص سے ہوتا ہے جو قطعی الثبوت والدلالۃ ہو جب کہ مکروہ تحریمی کا ثبوت ظنی الثبوت  قطعی الدلالۃیاقطعی الثبوت ظنی الدلالۃ  نص سے ہوتا ہے۔

گھوڑا فی نفسہ حلال ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک گھوڑا آلۂ   جہاد  ہونے کی وجہ سے اس کا گوشت کھانا  مفتی بہ قول کےمطابق مکروہ تنزیہی  ہے، آج کے دور میں بھی جنگ کے دوران اور سرحدات کی حفاظت کے لیے دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے مختلف اہم پوسٹوں تک پہنچنے میں گھوڑوں کا استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے گھوڑا اب  بھی آلہ جہادشمار ہوگا؛ لہذا گھوڑے کے گوشت کا حکم موجودہ زمانے میں بھی یہی ہے کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہونے کے باوجود مکروہ ہے۔جب کہ گدھے کے گوشت سے غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا۔اس لیے اس کا گوشت کھانا  مکروہ تحریمی ہے جو کہ عملاً حرام کی طرح ہے،لیکن اس  کےنصوص  چونکہ  قطعی الدلالۃ ظنی الثبوت  ہیں اس لیے حرام کی بجائےاسے کؤمکروہ تحریمی  کہیں گے ۔

عن جابر بن عبد الله:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى يوم خيبر، عن لحوم ‌الحمر ‌الأهلية. وأذن في لحوم الخيل..(صحيح مسلم، كتاب الصيد والذبائح باب: في أكل لحوم الخيل ،ج:3،ص:1529،رقم الحديث:1929)

أن أبا ثعلبة قال:حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم لحوم الحمر الأهلية.(صحيح مسلم،كتاب الصيد والذبائح،باب: تحريم أكل لحم الحمر الإنسية،ج:3،ص:1538،رقم الحديث:1936)

يكره لحم الخيل في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى، خلافاً لصاحبيه، واختلف المشايخ في تفسير الكراهة، والصحيح أنه أراد بها التحريم، ولبنه كلحمه، كذا في فتاوى قاضي خان. وقال الشيخ الإمام السرخسي: ما قاله أبو حنيفة رحمه الله تعالى أحوط، وما قالا أوسع، كذا في السراجية(الفتاوى الهندية، كتاب الذبائح، الباب الثاني...،ج:5،ص:290)

نحن لا نطلق اسم المحرم على لحوم ‌الحمر ‌الأهلية إذ المحرم المطلق ما تثبت حرمته بدليل مقطوع به، فأما ما كانت حرمته محل الاجتهاد فلا يسمى محرما على الإطلاق بل نسميه مكروها فنقول بوجوب الامتناع عن أكلها عملا مع التوقف في اعتقاد الحل والحرمة.( بدائع الصنائع، كتاب الذبائح والصيود، المأكول وغير المأكول من الحيوانات،ج:5،ص:3)

وقيل إن أبا حنيفة رجع عن حرمته قبل موته بثلاثة أيام وعليه الفتوى.(قوله وعليه الفتوى) فهو مكروه كراهة تنزيه، وهو ظاهر الرواية كما في كفاية البيهقي وهو الصحيح على ما ذكره فخر الإسلام وغيره قهستاني، ثم نقل تصحيح كراهة التحريم عن الخلاصة والهداية والمحيط والمغني وقاضي خان والعمادي وغيرهم وعليه المتون، وأفاد أبو السعود أنه على الأول لا خلاف بين الإمام وصاحبيه لأنهما وإن قالا بالحل لكن مع كراهة التنزيه كما صرح به في الشرنبلالية عن البرهان.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الذبائح،ج:6،ص:305)

بيان ذلك أن الأدلة السمعية أربعة، الأول قطعي الثبوت والدلالة كنصوص القرآن المفسرة أو المحكمة والسنة المتواترة التي مفهومها قطعي الثاني قطعي الثبوت ظني الدلالة كالآيات المؤولة الثالث عكسه كأخبار الآحاد التي مفهومها قطعي الرابع ظنيهما كأخبار الآحاد التي مفهومها ظني، فبالأول يثبت الافتراض والتحريم، وبالثاني والثالث الإيجاب وكراهة التحريم؛ وبالرابع تثبت السنية والاستحباب.( ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص:337)

‌وأما ‌المكروه ‌كراهة ‌تنزيه فإلى الحلال أقرب.(البحر الرائق شرح كنزالدقائق،كتاب الكراهية،ج:8،ص:205)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں