بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طواف اور سعی کے بعد حلق یا قصر مؤخر کرنا


سوال

آج کل انتظامیہ کی طرف سے یہ پابندی ہے کہ مطاف میں بغیر احرام کے جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر کوئی شخص عمرے کا طواف اور سعی کرنے کے بعد حلق یا قصر کو دو تین دن کے لیے مؤخر کر دے تاکہ حالتِ احرام میں رہے اور مطاف میں مزید طواف کر سکے، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اور بہتر صورت کون سی ہے؟

جواب

واضح رہےکہ عمرے کا طواف اور سعی مکمل کرنے کے بعد حلق یا قصر کے لیے شرعاً کوئی وقت مقرر نہیں ہے، اس لیے اگر کوئی شخص ممنوعاتِ احرام سے اجتناب کرتے ہوئےطواف اور سعی کے بعد حلق یا قصر  کو مؤخرکرے تو اس کی گنجائش موجود ہے۔ اس دوران وہ مطاف میں نفلی طواف بھی کر سکتا ہے۔

البتہ موجودہ دور میں انتظامیہ کی طرف سے یہ سختی ہے کہ مطاف میں صرف محرمین(جوحالت احرام میں ہے)کو جانے دیا جاتا ہے، لہٰذاگر کوئی اس پابندی کی وجہ سے حلق یا قصر مؤخر کر کے احرام میں رہتے ہیں تاکہ مطاف میں طواف کر سکیں۔تو اگرچہ طواف اور سعی کے بعدحلق یا قصر کومؤخرکرنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر مطاف میں ازدحام اور ہجوم کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہوتو اس طریقے سے اجتناب کرنا بہتر ہے۔

 

و في حق المعتمر لا يختص بالزمان والمكان بلا خلاف، و في الهداية و التقصير و الحلق في العمرة غير موقت بالزمان بالاجماع، فان لم يقصر حتى رجع و قصر فلا شيئ عليه في قولهم جميعا.(الفتاوی التاتارخانية، كتاب الحج،الفصل الرابع عشر،الحلق والقصر،ج:3،ص:645)

"والتقصير والحلق في العمرة غير موقت بالزمان بالإجماع؛ لأن أصل العمرة لا يتوقت به".(فتح القدیر،كتاب الحج،باب الجنايات،فصل طاف طواف القدوم محدثا،ج:3،ص:64)


فتویٰ نمبر : 10748/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں