بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

قسطوں کی صورت میں عمرہ کی سہولت حاصل کرنا


سوال

 آج کل ٹریول ایجنسیوں والے لوگوں کو قسط وار ادھار پر عمرہ کی سہولت دیتا ہے، جس میں نقد کی صورت میں عمرہ کرنے سے زیادہ پیسے قسط وارادا کیے جاتےہیں،کیا كسی شخص کے لیے اس سہولت سے فائدہ اٹھا کرعمرہ کی سعادت  حاصل کرنا جائز ہے  یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے عمره اداکرنا  سنت ہے اس ليے استطاعت نہ ہونے کی صورت میں  قرض لے کر  عمرہ   ادا کرنا ضروری نہیں ہے البتہ اگر بعد میں قرض کی ادائیگی کی استطاعت  ہو تو  عمرہ کے لیے قرض لینے كی گنجائش  ہے۔

            صورت مسئولہ میں مقررہ  میعاد میں قسطیں  ختم کرنے کی  استطاعت ہواورٹریول ایجنسی نقد کی قیمت سے زیادہ پر عمرہ کراتا ہو کہ تواس سہولت سے فائدہ اٹھا کر عمرہ کرنا جائز ہے  تاہم   یہ ضروری ہے کہ مجموعی رقم اور قسطوں کی ادائیگی کی تاریخیں پہلے سے طے ہوں اور  قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی  صورت  میں اضافہ کی شرط  نہ لگائی  جائے۔

 

(والعمرة)في العمر (مرة سنة مؤكدة).(الدرالمختار على صدر ردالمحتار،كتاب الحج،ج:3،ص:475)

لأن للأجل شبها بالمبيع؛ ألا يرى أنه ‌يزاد ‌في ‌الثمن لأجل الأجل.(الهداية،كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،ج:3،ص:58)

 وقالوا:لولم يحج حتى أتلف ماله وسعه أن يستقرض ويحج ولو غير قادر على وفائه ويرجى أن لا يؤاخذه الله بذالك.وهذا يرد على القول الأول أيضا إن كان المراد بقوله"ولو غير قادر" على وفائه أن يعلم أنه ليس له جهة وفاء أصلا،أما لوعلم أنه غير قادر في الحال وغلب على ظنه أنه لو إجتهد قدر على الوفاء فلا يرد.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الحج،ج:3،ص:455)


فتویٰ نمبر : 3942/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں