بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وطن اصلی کی تبدیلی


سوال

زاہد نے اپنا  گاؤں وعلاقہ روزگار کے سلسلے میں چھوڑدیا ہے ۔اور  فیصل آباد منتقل ہوگیا۔وہاں اس کے ساتھ فیملی بھی رہتی ہے اپنا اور بیٹوں کا کاروباربھی  ہے اور انہوں نے دوبارہ اپنے علاقے یا گاؤں میں آنے کی نیت ترک کردی ۔یعنی فیصل آباد کو اپنا مسکن بنادیا۔علاقے میں اپنا گھر موجود ہے غمی خوشی کے لیے اپنے علاقے آجاتاہے ۔اب زاہد اپنےعلاقے میں مسافر ہوگا یا پوری نمازادا کرے گا؟نیت کا اعتبار ہوگا کہ نہیں یعنی انہوں نے تو نیت کی ہے کہ دوبارہ اپنے علاقے مستقل رہائش کے لئے نہیں آئے گا۔

جواب

جاننا چاہیے کہ وطن اصلی انسان کا وہ مقا م ہوتاہے جہاں وہ مستقل طور پر اپنے اہل وعیال کےساتھ رہتا ہوکسی جگہ محض زمین یا مکان کے  باقی رہنے سے وطن اصلی باقی نہیں رہتا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جب زاہد نے اپنے گاؤں وعلاقے کو چھوڑ کر اہل وعیال کےساتھ فیصل آباد میں مستقل رہائش کی نیت کرلی اور دوبارہ اپنے علاقے میں مستقل رہائش کا کوئی ارادہ  نہیں، تو اب پرانا وطن اصلی باطل ہوکرفیصل آباد اس کا وطن اصلی شمار ہوگا ۔لہذا فیصل آباد اور گاؤں کے درمیان اگر شرعی سفر کی مسافت پوری ہوتی ہوتو زاہد اپنے گاؤں میں قصرکرےگا۔

 

(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه(يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما.( ردالمحتار على الدر المختار،ج:2،ص:132)


فتویٰ نمبر : 10745/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں