بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

وکیل کا معین شخص کے علاوہ کسی دوسرے کو رقم حوالہ کرنا


سوال

 میرا ایک عزیز ہے جو کہ مالی لحاظ سےبہت کمزور ہے مجھے کوئی اس کے بجلی بل کے لیے ہرماہ پانچ ہزار روپے بطور صدقہ دیتاہے جس کو میں ہر ماہ اس کے حوالے کردیتاہوں لیکن وہ آدمی اس سے بجلی بل نہیں دیتا اور بجلی بل کے لیے وہ محلے والوں سے مانگتا ہے اسی  طرح کام کاج بھی نہیں کرتا ویسے گھر میں بیٹھا رہتاہے اورمفت پیسوں نے اس کی عادت خراب کی ہوئی ہے اب وہ کوئی مزدوری نہیں کرتا،تو کیا میں اس شخص کے دئے گئے پانچ ہزارروپے کسی دوسرے غریب کو دے سکتاہوں تاکہ کسی دوسرے غریب مسلمان کا کام بھی ہوجائے اور وہ آدمی بھی محنت کرنا شروع کردے۔

جواب

جاننا چاہیے کہ جب کوئی کسی کو رقم دے کرکسی  خاص بندے کوحوالہ کرنے کا حکم کرے تو وکیل کے لیے اس حکم کی خلاف ورزی جائز نہیں بلکہ وہ رقم اسی شخص کو حوالہ کرے گا جس کا موکل نے کہا ہے۔

صورت مسؤلہ  کے مطابق جب صدقہ کرنے والا اسی شخص کے بجلی بل کے لئے پانچ ہزارروپے سائل  کودے تو وہ رقم اسی  بندے کو دینا لازم ہے چاہے وہ اس سے کچھ بھی کرے،دوسرے غریب کو موکل کی اجازت کے بغیر دینا جائزنہیں ۔  

 

إذا قيدت الوكالة بقيد فليس للوكيل مخالفته۔( مجلة الأحكام العدلية ،ص: 287)


فتویٰ نمبر : 3939/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں