بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میت کی طرف سے قربانی کےگوشت کا حکم


سوال

اگرایک شخص وصیت کرے کہ میرے مرنے کے بعد میرے لئے  قربانی کرنی ہے تواس کے مرنے کے بعد جب اس کے لئےقربانی کی جائےتواس قربانی کاگوشت میت کے وارثین کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ 

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی آدمی کسی میت کی طرف سے قربانی کرتا ہے تواگرمرحوم نے وصیت کی تھی اورقربانی مرحوم کے مال سے کی جارہی ہوتواس قربانی کا گوشت صدقہ کرنا ضروری ہے، یہ گوشت میت کے ورثاء کے لئے کھانا جائزنہیں ۔اوراگرمرحوم نے قربانی کرنے کی کوئی وصیت نہیں کی تھی بلکہ ورثاء اور رشتہ داروں نے اپنی طرف سے مرحوم کے لیے قربانی کی ، تو اس کا گوشت سب کھاسکتے ہیں۔ قربانی کرنے والا جس قدر چاہے غریبوں کو دے اور جس قدر چاہے خود استعمال کرلے ۔

 

من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح.  قال الصدر: والمختار أنه إن بأمرالميت لايأكل منها وإلا يأكل۔۔۔۔(قوله وعن ميت) ‌أي ‌لو ‌ضحى ‌عن ‌ميت وارثه بأمره ألزمه بالتصدق بها وعدم الأكل منها، وإن تبرع بها عنه له الأكل لأنه يقع على ملك الذابح والثواب للميت ۔(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الأضحیة، ج:6، ص:326)


فتویٰ نمبر : 10744/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں