بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
گھر میں مسجد بنانے پر جنت کے وجوب،کےمتعلق حدیث کی تحقیق
سوال
کیا ذخیرہ احادیث میں ایسی کوئی مستندحدیث موجود ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ "جس نے اپنے گھر میں مسجد بنائی تو اس کےلیے جنت واجب ہوگئی یا وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا"؟برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے مسجد بنانا ایک مستحسن اورموجب ثواب عمل ہے،احادیث میں آپﷺ نےمسجد بنانے کی ترغیب دی ہے اوراس پر اللہ کی طرف سے جنت مىں گھر کا وعدہ ذکر فرمایا ہے، اسی طرح اپنے محلوں میں مسجدیں اورگھروں میں نماز کےلیے مخصوص جگہ متعین کرنےاوران کو صاف ستھرا رکھنے کی ترغیب بھی مستند ذخیرہ احادیث میں موجود ہے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببناء المساجد في الدور وأن تنظف وتطيب. (سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب اتخاذ المساجد في الدور، رقم الحديث: 455، ج: 1، ص: 342)
اس روایت میں شارحین حدیث کہتے ہیں کہ : اگر"دور" سے مراد محلے ہوں تو" مساجد" سے مسجدیں ہی مراد ہیں اور معنی یہ ہے کہ "رسول اللہ ﷺ نے محلوں میں مسجدیں بنانے کاحکم دیا" ،اوراگر"دور" سے مراد گھر ہوں،تو "مساجد" سے گھروں کے اندر نماز کےلیے مخصوص جگہ مراد ہوگی،اور معنی یہ ہوگا کہ "رسول اللہﷺنے گھروں میں نماز کےلیے جگہ مخصوص کرنے کا حکم دیا ہے"۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ جب تک کسی حدیث کا مضمون مستند کتب حدیث سے ثابت نہ ہو اس کو بیان کرنے سے احتراز کرنا چاہیے ،کیونکہ آپ ﷺ نے اپنی طرف غلط بات منسوب کرنےوالے کےلیے جہنم کی وعید سنائی ہے۔
الغرض مسجد بنانے پر اللہ کی طرف سے جنت میں گھر بنانے کا وعدہ اسی طرح گھروں میں مصلے(جائے نماز) بنانےاوران کو صاف ستھرا رکھنے کا حکم تو ذخیرہ احادیث میں موجود ہے،لیکن سوال میں مذکوریہ مضمون کہ "جس نے اپنے گھر میں مسجد بنائی تو اس کےلیے جنت واجب ہوگئی یا وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا"ہمیں تلاش کے باوجود مستند کتب حدیث میں نہیں ملا،لہذا ثبوت کے بغیر اس کو بیان کرنے سےاجتناب کرنا چاہیے۔
أخبرني منصور، قال: سمعت ربعي بن حراش، يقول: سمعت عليا، يقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تكذبوا علي، فإنه من كذب علي فليلج النار». (أخرجه البخاري، کتاب العلم، باب إثم من كذب على النبيﷺ،رقم الحديث:106، ج:1، ص:41)
عن جابر بن عبد الله، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من بنى مسجدا لله كمفحص قطاة، أو أصغر، بنى الله له بيتا في الجنة". (سنن ابن ماجه، أبواب المساجد والجماعات، باب من بنى لله مسجدا، رقم الحديث: 738، ج: 1، ص: 475)
عن عائشة، «أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر ببناء المسجد في الدور». (صحيح ابن خزيمة، كتاب الصلاة، باب الأمر ببناء المساجد في الدور، رقم الحديث: 1294، ج: 2، ص: 270)
عن عائشة قالت: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببناء المساجد في الدور وأن تنظف وتطيب. (سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب اتخاذ المساجد في الدور، رقم الحديث: 455، ج: 1، ص: 342)
(وعن عائشة قالت: أمر) ، أي: أذن (رسول الله صلى الله عليه وسلم ببناء المسجد في الدور) : جمع دار، وهو اسم جامع للبناء والعرصة والمحلة، والمراد المحلات فإنهم كانوا يسمون المحلة التي اجتمعت فيها قبيلة دارا، أو محمول على اتخاذ بيت في الدار للصلاة، كالمسجد يصلي فيه أهل البيت، قاله ابن الملك، والأول هو المعول وعليه العمل، ثم رأيت ابن حجر ذكر أنه المراد به هاهنا المحلات والقبائل، وحكمة أمره لأهل كل محلة ببناء مسجد فيها أنه قد يتعذر أو يشق على أهل محلة الذهاب للأخرى، فيحرمون أجر المسجد وفضل إقامة الجماعة فيه، فأمروا بذلك ليتيسر لأهل كل محلة العبادة في مسجدهم من غير مشقة تلحقهم. (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصلاة، باب المساجد ومواضع الصلاة، رقم الحديث: 717، ج: 2، ص: 603)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں