بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور میں عقیقہ کے لئے ایک حصہ مقرر کرنا


سوال

میرے سسرال والوں نے قربانی کا جانور خریدا اور میری بھی خواہش تھی کہ  اپنی بیٹی کا عقیقہ کرو ں لیکن میرے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ جس سے میں عقیقہ کے لیے جانور خرید سکوں،تو میں نے اپنے سسر سے بات چیت کی اور ان کے جانور میں اپنا ایک حصہ(عقیقہ  کے لیے) اس شرط کے ساتھ شامل کروایا کہ جب میرے پاس (عید کے کچھ دن بعد) پیسے آئینگے تو میں آپ کو حصے کی رقم دے دوں گا۔اور پھر میرے سسرال والوں نے بھی کہا کہ چلو ٹھیک ہے ،ہم آپ کا حصہ بھی شامل کرلیتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں میں نے جو اپنی بیٹی کا عقیقہ کیا ہے وہ عقیقہ ادا ہو جاۓ گا ؟

جواب

واضح رہے کہ بچے يا بچی كی پيدائش پرعقيقہ كرنا مستحب ہے اور قربانی کے بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ رکھنے میں شرعا کوئی حرج نہیں  اس سے بھی عقیقہ ادا ہو جائیگا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق قربانی کے جانور میں بچی کے عقیقہ کے لئے حصہ مقرر کرنے سے عقیقہ ہوگیاہے ۔

 

وشمل ما لو كانت القربة واجبة على الكل أو البعض اتفقت جهاتها أو لا: كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران خلافا لزفر، لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الاضحية،ج:6،ص:326)

«ولو أرادوا القربة الأضحية ‌أو ‌غيرها ‌من ‌القرب ‌أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجبت على البعض دون البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة والقران»(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،صل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية،ج:5،ص:71)


فتویٰ نمبر : 10746/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں