بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شوہر کے بھتیجے سے نکاح کرنا


سوال

ایک عورت کا شوہر وفات ہوا  تو اس نے شوہر کے بھتیجے سے شادی کی جبکہ اس دوسرے شوہر کے  بھائی  کے نکاح میں اس عورت کی بیٹی موجود ہے تو کیا اس  نکاح کی وجہ  سے اس کی بیٹی کے نکاح پر کوئی اثر پڑےگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی عورت اپنے داماد کے بھائی سے نکاح کرے تو اس سے اس کی بیٹی کے  نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق بیوہ عورت کا اپنے داماد کے بھائی سے نکاح  کی صورت میں اس کی  بیٹی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں   پڑتا  ،لہذا وہ  دونوں بدستور میاں بیوی رہیں گے۔

 

أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة، رضاع، جمع، ملك، شرك، إدخال أمة على حرة، فهي سبعة: ذكرها المصنف بهذا الترتيب وبقي التطليق ثلاثا، وتعلق حق الغير بنكاح أو عدة ذكرهما في الرجعة. (حرم) على المتزوج ذكرا كان أو أنثى نكاح (أصله وفروعه) علا أو نزل (وبنت أخيه وأخته وبنتها) ولو من زنى (وعمته وخالته) فهذه السبعةمذكورة في آية - {حرمت عليكم أمهاتكم} [النساء: 23]- ويدخل عمة جده وجدته وخالتهما الأشقاء وغيرهن، وأما عمة عمة أمه وخالة خالة أبيه حلال كبنت عمه وعمته وخاله وخالته {وأحل لكم ما وراء ذلكم} [النساء: 24]( رد المحتار علی الدر المختار،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،ج:3،ص:28)


فتویٰ نمبر : 7277/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں