بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زمین اجارہ پر لے کر صاحب ارض کو کاشت کاری کے لئے واپس دینا


سوال

اگر کوئی شخص کسی سے زمین اجارہ (کرایہ) پر لے کہ میں سالانہ آپکو چالیس ہزار روپے دوں گا اور پھر وہ زمین  اسی مالک (صاحب ارض) کو کاشت کاری کے لیے دے دے، اور معاملہ یہ ہو کہ زمین مالک ہی کاشت کرے گا  اوربییج کا خرچہ وغیرہ بھی مالک کی جانب سے ہوگا اور پیداوار میں غلہ مثلاً گندم یا جوار مکئ بھی صاحب ارض کاہوگا اور صرف  بھوس اور گھاس (ٹانٹئ) مستاجر (کرایہ دار ) کا ہوگا تو یہ معاملہ شرعاً کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زمین   مزارعت پر دینے کے لئے فقہاء کرام نے چند صورتیں ذکر کی ہیں ان   میں سے کسی ایک کی موجودگی میں مزارعت درست ہوگی  اگر کوئی بھی صورت موجود نہ ہو تو مزارعت ناجائز ہوگی۔

1۔زمین ، بیج اور آلہ کاشت مالکِ زمین کی طرف سے ہواور صرف عمل کاشتکار کی طرف سے ہو۔

2۔ زمین ایک کی طرف سے ہو، جب کہ بیج، عمل  اور آلہ کاشت کاشتکار کی طرف سے ہو۔

3۔زمین اور بیج مالکِ زمین کی طرف سے ہو، جب کہ عمل اور آلہ کاشت کاشتکار کی طرف سے ہو۔

صورت مسؤلہ کے مطابق زمین اجارہ پر لیکر خود زمین کے مالک  کو مزارعت پر دینا کہ مالک ہی  اپنی زمین  کاشت کرے گا ، بیج ،اور آلہ کاشت،(بیل ،ٹریکٹر،)بھی اسی  کی طرف سے ہوگا  اور مستاجر ( زمین اجارہ پر لینے والے)کو سالانہ چالیس ہزار کے بدلے   بھوس اور گھاس (ٹانٹی)وغیرہ  ملےگا ، تو شرعایہ معاملہ  درست  نہیں۔

 

المزارعة أنواع منها أن تكون الأرض والبذر والبقر والآلة من جانب والعمل من جانب وهذا جائز لأن صاحب الأرض يصير مستأجرا للعامل لا غير ليعمل له في أرضه ببعض الخارج الذي هو نماء ملكه وهو البذر۔

 ومنها أن تكون الأرض من جانب والباقي كله من جانب وهذا أيضا جائز لأن العامل يصير مستأجرا للأرض لا غير ببعض الخارج الذي هو نماء ملكه وهو البذر۔

 ومنها أن تكون الأرض والبذر من جانب والبقر والآلة والعمل من جانب فهذا أيضا جائز۔۔۔۔ ومنها أن تكون الأرض والبقر من جانب والبذر والعمل من جانب وهذا لا يجوز في ظاهر الرواية وروي عن أبي يوسف أنه يجوز۔(بدائع الصنائع، كتاب المزارعة، فصل في أنواع المزارعة، ج:8، ص:271)

والأصل أن كل ما يحتاج إليه الزرع قبل إدراكه وجفافه مما يرجع إلى إصلاحه من السقي والحفظ وقلع الحشاوة وحفر الأنهار ونحوها فعلى المزارع وكل عمل يكون بعد تناهي الزرع وإدراكه وجفافه قبل قسمة الحب مما يحتاج إليه لخلوص الحب وتنقيته يكون بينهما على شرط الخارج وكل عمل يكون بعد القسمة من الحمل إلى البيت ونحوه مما يحتاج إليه لإحراز المقسوم فعلى كل واحد في نصيبه۔(الفتاوى الهندية، كتاب المزارعة، الباب الأول في شرعيتها وتفسيرها وركنها، ج:5، ص: 273-274)

منها أن كل ما كان من عمل المزارعة مما يحتاج الزرع إليه لإصلاحه فعلى المزارع لأن العقد تناوله وقد بيناه ومنها أن كل ما كان من باب النفقة على الزرع من السرقين وقلع الحشاوة ونحو ذلك فعليهما على قدر حقهما وكذلك الحصاد والحمل إلى البيدر والدياس وتذريته لما ذكرنا أن ذلك ليس من عمل المزارعة حتى يختص به المزارع۔( بدائع الصنائع، كتاب المزارعة، فصل في حكم المزارعة الصحيحة، ج:8، ص:277)

فإن كانت الأرض لأحدهما وشرطا أن يكون البذر منهما إن شرطا العمل على غير صاحب الأرض وشرطا أن يكون الخارج بينهما نصفين كانت فاسدة۔(الفتاوی الهندية،كتاب المزارعة،الباب الثاني:في بيان أنواع المزارعة،ج:5،ص:275)


فتویٰ نمبر : 3940/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں