بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خودرودرختوں میں عشر


سوال

ہمارے ہاں غیر آباد زمینوں میں جنگلی درخت جو خود بخود اگتے ہیں ان کی کاشت نہیں کی جاتی ،کبھی کبھار جب اتفاقی طور پر پانی آتا ہے تو پانی بھی دیا جاتا ہے ، اکثر زمینوں کی لٹھ بندی بھی نہیں ہوتی، جنگلات  کا  مالک کسی کو  کاٹنے  کی  اجازت  نہیں  دیتا  بلکہ چند سالوں کے بعد وہ جنگل  کاٹ کر لکڑیاں بیچ  دیتا  ہے  یا  پورا  جنگل  ہی  بیچ  دیتا  ہے،جنگل  کے  ایسے  خودرو  درختوں  پر عشر واجب  ہے  یا  نہیں؟یا ایسی لٹھ بند کھیتیاں جن میں فصلیں اگائی جاتی ہیں ان کھیتوں کے کناروں پر درخت جوکہ خود بخود اگتے ہیں لیکن مالک ان درختوں کی حفاظت کرتا ہے کھیتوں سے فصلیں بھی اٹھاتا ہے، ان درختوں پر عشر واجب ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عشر زمین کی ہر اس پیداوار میں واجب ہے جو مقصود ہو، چاہے اس کی کاشت کی جائے یا از خود پیدا ہو جائے چونکہ خود رو گھاس یا  پودےعموما مقصود اصلی نہیں ہوتے، اس لیے اس میں عشر واجب نہیں، لیکن جب اس کی حفاظت کی جائے اس کو  پانی دیا جائے اور دوسروں کو ا سے کاٹنے  سے منع کیا جائے تو  اس صورت میں وہ درخت مقصودی ہو جاتا ہے،جس کی بنا پرعشر واجب ہو تاہے ۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں جو جنگلی   درخت یا  کھیت  کے  کناروں  پر درخت خود بخود  اگتے ہیں، لیکن ان کی حفاظت کی جاتی ہے، ان  کو  پانی  دیا  جاتا  ہے، اور دوسروں کو اس کے کاٹنے سے منع کیا جاتاہے ،تو  ان   درختوں  پر زمین  کے  اعتبار  سے  عشریا نصف عشر واجب ہوگا۔

 

‌ ومنها أن يكون الخارج من الأرض مما يقصد بزراعته نماء الأرض وتستغل الأرض به عادة ‌فلا ‌عشر ‌في ‌الحطب والحشيش والقصب الفارسي؛ لأن هذه الأشياء لا تستنمى بها الأرض ولا تستغل بها عادة؛ لأن الأرض لا تنمو بها بل تفسد فلم تكن نماء الأرض حتى قالوا في الأرض: إذا اتخذها مقصبة وفي شجره الخلاف، التي تقطع في كل ثلاث سنين، أو أربع سنين أنه يجب فيها العشر.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الزكاة، فصل زكاة الزروع والثمار، ج:2، ص:58 )

فلا ‌عشر ‌في ‌الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف؛ لأن الأراضي لا تستنمي بهذه الأشياء بل تفسدها حتى لو استنمت بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر.( الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، باب فى زكاة الزرع والثمار، ج:1، ص: 186 )


فتویٰ نمبر : 10771/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں