بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
میت کے لواحقین کے ساتھ تعاون کے لیے فنڈ قائم کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے بڑوں نے پشاور میں مقیم اپنی کمیونٹی کی غربت کو پیش نظر رکھتے ہوئے "البر کمیٹی" کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے مخصوص اراکین ہیں، اور ہر رکن سالانہ 3000 روپے باقاعدگی سے بطور چندہ جمع کراتا ہے، کمیٹی کا بنیادی مقصد درج ذیل خدمات انجام دینا ہے:1. اگر ہمارے گاؤں سے کوئی مریض (جو کمیٹی کے اراکین میں سے کسی کا قریبی رشتہ دار ہو ہمارے شہر (جہاں ہم مقیم ہیں) میں آکر فوت ہو جائے،تو گاؤں تک میت کی منتقلی کے اخراجات کمیٹی برداشت کرتی ہے، 2. اگر کمیٹی کے اراکین میں سے کوئی مسافر ساتھی فوت ہو جائے، تو اس کی تجہیز و تکفین، اور گاؤں پہنچانے کا بندوبست بھی کمیٹی کے ذمے ہوتا ہے، 3. اسی طرح اگر کسی رکنِ کمیٹی کے قریبی رشتہ دار (جن کی فہرست پہلے سے طے شدہ ہے) گاؤں میں فوت ہو جائے، تو کمیٹی اس رکن کو گاؤں جانے کے لیے سفری اخراجات مہیا کرتی ہے،. 4. بعض مواقع پر کمیٹی میت کے اہل خانہ کو ایک یا دو وقت کا کھانا بھی فراہم کرتی ہے(جس پر کبھی کم رقم خرچ ہوتی ہے کبھی زیادہ ). 5. یہ تمام سہولیات یعنی میت گاؤں تک پہنچانے کا خرچہ، اسی طرح گاؤں میں کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہوجائے تو گاؤں جانے والے اراکین سفری اخراجات کمیٹی سے اپنا حق لازم سمجھ کر وصول کرتے ہیں، کمیٹی پر یہ سہولیات مہیا کرنا لازم سمجھے جاتے ہیں. 6. میت گاؤں تک پہنچانے کے لیے کمیٹی بعض اوقات ایک گاڑی کا بندوبست کرتی ہے اور بعض اوقات دو کا، یعنی میت پہنچانے کے لیے سہولت مہیا کرنا متعین نہیں کبھی کم کبھی زیادہ. 7. بعض اراکین ایسے ہیں جو کئی سالوں سے چندہ دے رہے ہیں، لیکن ابھی تک ان کے ہاں کوئی فوتگی نہ ہونے کی وجہ سے وہ کمیٹی سے کوئی سہولت نہیں لے سکے، جبکہ بعض ایسے ہیں جن کے ہاں کئی فوتگیاں ہونے کی وجہ سے وہ کئی بار کمیٹی سے سہولت لے چکے ہیں. ہم اس نظام کو منظم طریقے سے چلا رہے ہیں، تمام ارکان اس پر رضامند ہیں، اور کمیٹی کا دائرہ خدمات صرف انہی ممبران تک محدود ہے جو باقاعدہ چندہ جمع کراتے ہیں، البتہ بعض اوقات گاؤں کا کوئی فرد جو کمیٹی کے ارکان میں کسی سے کا قریبی رشتہ دار نہیں ہوتا، اور وہ پشاور میں فوت ہوجائے تو کمیٹی اس کے ساتھ بھی کچھ نہ کچھ تعاون کرتی ہے،اسی طرح یہاں پڑھنے والے طلبہ (جو چندہ دینے سے مستثنی ہیں ) کے ساتھ حادثہ کی صورت میں بھی مکمل تعاون کیا جاتا ہے. ہم شریعت کی روشنی میں یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں: 1. کیا "البر کمیٹی" کے اس نظم اور خدمات کی یہ شکل شرعی اصولوں کے مطابق درست ہے؟ 2. کیا ممبران سے مقررہ رقم (مثلاً 3000 روپے سالانہ) بطور شرط لینا اور صرف چندہ دینے والے اراکین کو فائدہ دینا جائز ہے؟ 3. کیا یہ نظام "وقف علی النفس(فی النقود ) " یا "قمار" کی ممانعت میں تو نہیں آتا؟ 4. اگر کوئی شرعی قباحت ہو تو اس کا متبادل شرعی طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟ .
جواب
اسلام باہم مل جل کر رہنے، ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے اور باہمی تعاون وتناصر کا ہاتھ بڑھانے کا داعی دین ہے چنانچہ اللہ تعالی نے صراحت سے اس کا حکم فرمایا ہے کہ نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا کرو، ارشادِ خداوندی ہے:﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى﴾، حدیث شریف میں ہے کہ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ نے (لوگوں سے)فرمایا کہ آلِ جعفر کے لیے کھانے کا انتظام کرو کیونکہ ان کو غم اور پریشانی نے کھانے سے مشغول کر رکھا ہے۔
اسی تناظر میں آج کل مختلف کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں اورفنڈ جمع کیا جاتا ہےجس میں عموماً ایک دوسرے سے تعاون اور مدد ہی اصل مقصد ہوتاہے صورت مسئولہ میں قائم شدہ کمیٹی کے مذکورہ طریقہ کار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کمیٹی بھی باہمی تعاون کی غرض سے قائم ایک تنظیم ہے جو اراکین سے چندہ لے کر ضرورت کے وقت تجہیز و تکفین اور سفری اخراجات میں مدد فراہم کرتی ہے۔شرعاًاس فنڈمیں درج ذیل امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہیں :
- شریک ہونے والے افراد اپنی رضامندی سے اس کمیٹی کا حصہ بنیں ۔ کسی پر کسی قسم کی زبردستی نہ ہو۔
- اس فنڈکا قیام وقف کی بنیاد پر رکھا جائے جس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے کچھ افراد اپنی خوشی اور رغبت سے کچھ رقم اس غرض کے لیے وقف کریں جس سے وقف فنڈ قائم ہوجائےگا، کمیٹی کے ذمہ داران اس کے متولی ہوں گے ،اس اصل فنڈکومستقل طورپرمحفوظ رکھا جائےگااور ممبرا ن اس وقف فنڈ کو تبرعاً رقم دیا کریں گے، وہ چندہ کی رقم اس وقف فنڈ کی ملکیت شمار ہوگی اوربوقت ضرورت اسی چندہ کی رقم سے خرچ کیا جائےگا، اصل وقف فنڈسے نہیں تاکہ وقف قائم رہے۔
- جو لوگ اس فنڈ کے لیے ابتداءًرقم وقف کرتے ہیں وہ شرائط اور طریقہ کار وضع کرلیں اور بہتر یہ ہے کہ تحریری شکل میں محفوظ کرلیں کہ اس وقف سے کس کے ساتھ، کس حد تک، کن شرائط کے ساتھ تعاون کیا جائے گا،اس کو چلانے والا کون ہوگاوغیرہ۔
- کمیٹی کا حصہ بننے والےہرممبر کے سامنے اس بات کی وضاحت کی جائے کہ آپ کا چندہ اس مقصد کے لیے وقف کی ملکیت ہوجائےگا چنانچہ بعد میں اس رقم کو واپس لینے اور مطالبہ کا حق حاصل نہ ہوگا۔
- ابتداءً رقوم وقف کرنے والے اس وقف فنڈ کے متولی اور منتظمین شمار ہوں گے،مالک نہیں ہوں گے، چنانچہ ان کا کام وقف کے لیے چندہ کی رقم پر قبضہ کرنا، اس کی حفاظت کرنا اور وضع کردہ اصولوں کے تحت اس فنڈ کو خرچ کرنا ہوگا۔ اسی طرح چندہ دہندہ گان بھی اپنی چندہ کی رقم کے مالک نہیں ہوں گے بلکہ وقف فنڈاس کامالک متصورہوگا۔
- انتظامی کمیٹی کے افرادکی حیثیت محض متولی کی ہوگی اس لیےوہ صرف طے شدہ مصارف میں ہی فنڈ کو خرچ کرسکیں گے۔کسی بھی دوسرے مصرف یاذاتی مفادات کے لیے خرچ کرنے کے مجازنہیں ہوں گے۔ورنہ یہ خیانت متصورہوگا۔
شرعی نقطہ نظر سے اس طرح کے وقفِ خاص کا تصور کتبِ فقہ میں موجود ہے ایسا ہی فقہائے کرام ؒ نے منقولی چیزوں کا وقف بھی جائز قرار دیا ہے اور اسی میں یسر کا پہلو غالب ہے۔ اس لیے مذکورہ طریقہ کار کے مطابق وقف فنڈ کے مطابق تعاونی یونین کو قائم کرنا، درج بالا اصول وضوابط کے مطابق اس کو چلانا، اس کا ممبر بننا اور فوت شدہ شخص کے ورثاکے لیے اس سے منافع لینا شرعاً جائز ہے۔مزید یہ کہ چونکہ یہ فنڈ تبرع اور باہمی تعاون کی بنیاد پر جمع کیا جاتا ہے، اس لیے اگر بعض اراکین کو حادثات یا فوتگی کی صورت میں زیادہ فائدہ حاصل ہو جائے، اور بعض کو کوئی فائدہ نہ ملے، تو بھی اس سے کوئی شرعی قباحت لازم نہیں آتی، کیونکہ یہاں نفع یا نقصان کی تقسیم کسی شرط یا معاوضے پر نہیں بلکہ محض تعاون و احسان پر مبنی ہے۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى ﴾ (المائدة: 2)
وقال تعالى: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ (الحجرات: 10)
عن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد، إذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى . (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب، باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم وتعاضدهم، رقم الحديث: 2586، ج: 8، ص: 20)
وهذِه القسمة موضوعة للمعروف وعلى طريقة بين الأكلين، ألا ترى جمع أبي عبيدة بقية أزواد الناس، ثم شركهم فيها بأن قسم لكل واحد منهم، وقد كان فيهم من لم تكن له بقية طعام، وقد أعطى لبعضهم أقل مما كان بقي له ولآخر أكثر، وكذلك في حديث سلمة قسمه بينهم بالاحتثاء وهو غير متساو، وهذا الفعل للشارع هو الذي امتثل أبو عبيدة في جمعه للأزواد، وإنما يكون هذا عند شدة المجاعة، فللسلطان أن يأمر الناس بالمواساة، ويجبرهم على ذلك ويشركهم فيما بقي من أزوادهم، إحياءً لأرماقهم، وإبقاءً لنفوسهم. ويجوز أن يكون حكمًا حكم به لما شاهد من الضرورة وخوفه من تلف من لم يبق معه زاد، فظهر له المواساة أو عن رضى منهم، وكذلك قال بعض العلماء: إن ذلك سنة. (التوضيح لشرح الجامع الصحيح لابن الملقن، ج: 16، ص: 52)
وقال المصنف في المنح: ولما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية وغيرها في وقف الدراهم والدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز وقفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري والله تعالى أعلم، وقد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها ولم يحك خلافا. اهـ.(ردالمحتارعلى الدرالمختار ،ج:4،ص: 363)
قلت: لا يخفى عليك أن المفتى به الذي عليه المتون جواز وقف المنقول المتعارف. (رد المحتار على الدرالمختار ، ج:4، ص: 390)
كما قرر مجلس المجمع بالإجماع الموافقة على قرار مجلس هيئة كبار العلماء في المملكة العربية السعودية رقم (51) وتاريخ 4/4/1397هـ. من جواز التأمين التعاونى بدلًا عن التأمين التجاري المحرم والمنوه عنه آنفًا للأدلة الآتية:
الأول: أن التأمين التعاونى من عقود التبرع التى يقصد بها أصالة التعاون على تفتيت الأخطار والاشتراك في تحمل المسئولية عند نزول الكوارث وذلك عن طريق إسهام أشخاص بمبالغ نقدية تخصص لتعويض من يصيبه الضرر فجماعة التأمين التعاونى لا يستهدفون تجارة ولا ربحًا من أموال غيرهم وإنما يقصدون توزيع الأخطار بينهم والتعاون على تحمل الضرر. (مجلة مجمع الفقه الإسلامي، التأمين وإعادة التأمين، ج: 2، ص: 476)