بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بندرگاہ میں كنٹىنر کی كلیئرنس سے پہلے مال بیچنا


سوال

ایک تاجر نے ایک درآمدی کنٹینر خریدا جس میں ہزار موبائل فونز تھے۔ بندرگاہ پر کنٹینر ابھی کلئر نہیں ہوا تھا، مگر اس نے 200 فون ایک اور تاجر کو فروخت کر دیے اور یہ کہہ کر ادائیگی لی کہ "جیسے ہی کنٹینر کلئر ہوگا، یہ فون تمہیں دے دوں گا"۔کیا قبضہ سے پہلے ایسا معاملہ جائز ہے؟ اگر خریدار کو بیع کے وقت مکمل علم ہو تو کیا پھر بھی بیع درست ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ معاملہ  بیع میں قبضہ سے پہلے بائع کےلیے  مبیع(سامان)  کاآگے  فروخت کرنا جائز نہیں ہے،کیونکہ ہوسکتا کہ وہ چیز حوالگی سے پہلے ہلاک ہوجائے تو یوں  اس میں غرر اور دھوکہ کا قوی اندیشہ پایا جاتا ہے،اسی طرح بائع کے لیے یہ بھی جائز نہیں ہےکہ وہ ایسی چیز آگے بیچے جس کی حوالگی پر وہ قادر نہ ہو،نیز واضح رہے کہ بندرگاہ پر ہونے والی   کلیئرنس سے مراد وہ قانونی چارہ جوئی ہےجس کے بغیر درآمدی مال بائع کے قبضہ میں نہیں آسکتا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر خریدار دوسرے تاجرپر کنٹینر کلیئر ہونےسےپہلے ہی  200 فون  فروخت کرے توعموما  یہ معاملہ " بیع قبل القبض(قبضہ سے پہلے کوئی چیز آگے بیچنے)" کی بنا پر ناجائز ہوگا،کیونکہ درآمدی مال کی  جب تک کلیئرنس نہ ہوئی  ہواس پر قانونی طورپر بائع کاقبضہ مکمل نہیں ہوتا ،نیز بائع کلیئرنس سے پہلے حوالگی پر قادر بھی نہیں ہوتا،البتہ اگر بائع کنٹینر کی کلیئرنس سے پہلے وعدہ بیع کرے اورکلیئرنس کے بعد معاملہ بیع تام کرےتو شرعا اس کی گنجائش موجود ہے۔

 

(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر» ، وسواء باعه من غير بائعه، أو من بائعه؛ لأن النهي مطلق لا يوجب الفصل بين البيع من غير بائعه وبين البيع من بائعه، وكذا معنى الغرر لا يفصل بينهما فلا يصح الثاني، والأول على حاله. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج: 5، ص: 180)

‌‌فصل: "ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه"؛لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك. "ويجوز بيع العقار قبل ‌القبض عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمه الله... قال: والتصرف في الثمن قبل ‌القبض جائز" لقيام المطلق وهو الملك وليس فيه غرر الانفساخ بالهلاك لعدم تعينها بالتعيين، بخلاف المبيع. (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل: ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبض، ج: 3، ص: 59)

(المادة 209) :بيع ما هو ‌غير ‌مقدور ‌التسليم باطل كبيع سفينة غرقت لا يمكن إخراجها من البحر أو حيوان نادر لا يمكن إمساكه وتسليمه.(انظر المادة 198) أما بيع ما يستلزم تسليمه ضررا فهو بيع فاسد وكذلك بيع الجاموسة المستوحشة التي هي غير مقدورة التسليم غير صحيح. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الكتاب الأول البيوع، الباب الثاني في المبيع، الفصل الثاني في ما يجوز بيعه وما لا يجوز، المادة: 209، ج: 1، ص: 183)

79. Declaration and assessment for home consumption or warehousing.- (1) The owner of any imported goods shall make entry of such goods for home consumption or warehousing or for any other approved purpose by filing to the Customs a goods declaration containing correct and complete particulars of the goods and after having assessed, and, in case of the Customs Computerized System, paying his liability of duty, taxes and other charges thereon in such form and manner, as the Board may prescribe.

(دفعہ 79۔ گھریلو استعمال یا گودام کے لیے ڈیکلریشن اور اسیسمنٹ: (1)کسی بھی درآمدی مال کے مالک پر لازم ہے کہ وہ اس مال کو گھریلو استعمال، یا گودام (Warehousing) یا کسی اور منظور شدہ مقصد کے لیے تب ہی داخل کرسکتے ہیں جب وہ  کسٹمز کے پاس اشیاء کا ڈیکلریشن جمع کروائے جس میں مال کی درست اور مکمل تفصیلات درج ہوں، اور تشخیص (Assessment) کے بعد، اور جہاں کسٹمز کمپیوٹرائزڈ سسٹم ہو تو اس کے ذریعے، واجب الادا ڈیوٹی، ٹیکسز اور دیگر چارجز ادا کرے، اس طریقۂ کار اور صورت میں جو بورڈ (FBR) مقرر کرے۔)

(THE COSTOMS ACT,1969, CHAPTER IX, 79: Declaration and assessment for home consumption or warehousing, page number: 65)

 


فتویٰ نمبر : 3951/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں