بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گاہک کے آرڈر کے مطابق کمزور کیرٹ میں سونابنانا


سوال

میں ایک سنار کے ساتھ کام کررتا ہوں اوراس سنار کے پاس مختلف گاہک آتے ہیں ،اس سے آرڈر پر مختلف زیورات، چین،لاکٹ وغیرہ بنواتے ہیں ، اور اس میں بہترین کیرٹ کا آرڈربھی آتا ہے اور بسا اوقات کمزور کیرٹ کا آرڈر آتا ہے،اور گاہک کہتا ہے کہ یہی کیرٹ بنوانی ہےپھر ہم اس کے آرڈر کے مطابق سونے میں تانبا اورچاندی وغیرہ ڈالتے ہیں جس میں عام کیرٹ سے ملاوٹ زیادہ ہوتی ہے ،اب اس ملاوٹ کاکیا حکم ہے ؟ جبکہ ہم توگاہک کے حکم کی رعایت کرتے ہوئے زیادہ ملاوٹ کرتے ہیں ۔

جواب

واضح رہے کہ جب كوئی شخص کسی کاریگر سے مخصوص چیز بنانے کا مطالبہ کرےا وراس کو تمام اوصاف بیان کرے ، تو یہ معاملہ استصناع کہلاتا ہے ،استصناع میں آرڈر دینے والے کے بتائے گئے اوصاف کے مطابق چیز تیار کرنا شرعا جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق كاریگر کےلیے گاہک کےآرڈر کے مطابق کیرٹ بنواناجائز ہے، لیکن گاہک کو چاہیے کہ اس کو آگے بہترین کوالٹی کے نام اورقیمت پر  فروخت نہ کرےبلکہ گاہک کو تحقیق حال سےآگاہ کرکے اس پر  فروخت کرے۔

 

(المادة 388) إذا قال شخص لأحد من أهل الصنائع: اصنع لي الشيء الفلاني بكذا قرشا وقبل الصانع ذلك انعقد البيع استصناعا. مثلا: لو أرى المشتري رجله لخفاف وقال له اصنع لي زوجي خف من نوع السختيان الفلاني بكذا قرشا وقبل البائع ، أو تقاول مع نجار على أن يصنع له زورقا ، أو سفينة وبين له طولها وعرضها وأوصافها اللازمة وقبل النجار انعقد الاستصناع. كذلك لو تقاول مع صاحب معمل أن يصنع له كذا بندقية ، كل واحدة بكذا قرشا وبين الطول والحجم وسائر أوصافها...(المادة 392) وإذا انعقد الاستصناع ; فليس لأحد العاقدين الرجوع وإذا لم يكن المصنوع على الأوصاف المطلوبة المبينة كان المستصنع مخيرا. (مجلة الأحكام العدلية، ‌‌الباب السابع: في بيان أنواع البيع وأحكامه، الفصل الرابع في بيان الاستصناع، ص: 76)

"(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية"[وقال ابن عابدين تحته:] (قوله ممن يعلم) فيه إشارة إلى أنه لو لم يعلم لم يكره بلا خلاف قهستاني. ( رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 391)

‌‌"(المادة 164) التغرير توصيف المبيع للمشتري بغير صفته الحقيقية" تغرير، على وزن تفعيل وهو بمعنى الإخداع. ويقال للخادع غار وللمخدوع مغرور. وذلك كأن يقول البائع للمشتري: إن مالي يساوي كذا وهو لا يساوي ذلك فخذه، أو يقول المشتري للبائع: إن مالك لا يساوي أكثر من كذا، وهو يساوي أكثر من ذلك، فبعه لي به.أما الغرور فهو أن يخدع الإنسان نفسه بنفسه: وذلك كما لو باع البائع ماله بأنقص مما يساوي بدون تغرير من المشتري بقوله للبائع: إنه لا يساوي أكثر من كذا. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الکتاب الأول البيوع، مقدمة في بيان الاصطلاحات الفقهية المتعلقة بالبيوع، المادة: 164، ج: 1، ص: 130)


فتویٰ نمبر : 3937/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں