بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فقیر قاتل کو زکوٰۃ دینا


سوال

اگر قاتل فقیر ہے (یعنی اس کے پاس نصاب کے بقدر مال نہیں)، تو وہ غارم (مقروض)میں شامل ہوگایا نہیں؟ کیونکہ دیت بھی شرعاً واجب الادا قرض کے حکم میں ہے۔اس صورت میں زکوٰۃ کے پیسے قاتل کو مالک بنا کر دینا درست ہےیا نہیں؟ اور وہ اس سے دیت ادا کر سکتا ہے۔ زکوٰۃ براہِ راست مقتول کےورثاء کو بطور دیت نہ دی جائے، بلکہ قاتل کو دے کر وہ خود ورثاء کو ادا کرے۔

جواب

دیت چونکہ ایک واجب الادا حق ہے، اس لیے اگر قاتل اس کی ادائیگی کی استطاعت نہ رکھتا ہو اور فقیر ہو، تو فقہی اصول کے مطابق وہ "غارم" (قرض دار) شمار ہوگا۔ ایسے فقیر و مقروض شخص کو زکوٰۃ دینا جائز بلکہ افضل قرار دیا گیا ہے۔ البتہ قاتل کی اجازت کے بغیر زکوٰۃ کی رقم مقتول کے ورثا کو بطور دیّت دینا درست نہیں،اس سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی،البتہ اگر قاتل کی اجازت سے دی جائے تو پھرزکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔

صورتِ مسئولہ کےمطابق اگر قاتل فقیر ہے اور اس پر دیّت واجب الادا ہے، تووہ غارم کے حکم میں آئے گا،اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ لیکن براہ راست مقتول کے ورثاء کو قاتل کی اجازت کے بغیرزکوٰۃ دینا درست نہیں۔ قاتل کو زکوٰۃ دی جائے کہ وہ خود اس سے دیّت ادا کرے، یا قاتل کی اجازت سے مقتول کے ورثا کو دی جائے تو اس سے بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی اور دیت بھی۔

 

(‌والعاقلة ‌أهل ‌الديوان) ‌وهم ‌العسكر، وعند الشافعي: أهل العشيرة وهم العصبات (لمن هو منهم فيجب عليهم كل دية وجبت بنفس القتل).....(فتؤخذ من عطاياهم أو من أرزاقهم....(في ثلاث سنين) من وقت القضاء، وكذا ما يجب في مال القاتل عمدا بأن قتل الاب ابنه يؤخذ في ثلاث سنين عندنا، وعند الشافعي تجب حالا (فإن خرجت العطايا في أكثر من ثلاث أو أقل تؤخذ منه) لحصول المقصود (وإن لم يكن) القاتل (من أهل الديوان فعاقلته قبيلته) وأقاربه وكل من يتناصر هو به.تنوير البصائر. (وتقسم) الدية (عليهم في ثلاث سنين لا يؤخذ في كل سنة إلا درهم أو درهم وثلث. (الدرالمختار،كتاب الديات،كتاب المعاقل،ج:6،ص:640-642)

(‌ومنها ‌الغارم)،‌وهو ‌من ‌لزمه ‌دين،ولا يملك نصابا فاضلا عن دينه أو كان له مال على الناس لا يمكنه أخذه كذا في التبيين.والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير كذا في المضمرات.والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير،كذا في المضمرات. (الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:188)

فإن ‌كان ‌مديونا ‌فدفع ‌إليه ‌مقدار ما لو قضى به دينه لا يبقى له شيء أو يبقى دون المائتين لا بأس به. (الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:250)


فتویٰ نمبر : 10741/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں