بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسبوق کا امام کے ساتھ بھول کر سلام پھیرنا


سوال

میں دو رکعات کے بعد امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوا لیکن امام کے سلام پھیرتے وقت میں نے بھی بھول کر سلام پھیر لیا اور فورا کھڑا ہوگیا اور نماز مکمل کرلی اب کیا میری نماز ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

مسبوق کے سھواً سلام  پھیرنے کی چار صورتیں ہیں :پہلی صورت یہ ہے کہ امام کے سلام کے ساتھ متصل  ایک سلام پھیرے اس طرح کہ مسبوق کے سلام کا "میم" امام کے سلام کے"میم"کے ساتھ ملا ہوا ہو اور دوسرا سلام نہ پھیرے ۔دوسری صورت یہ ہے کہ  مسبوق امام سے پہلے سھواً سلام پھیرے اور دوسرا سلام  نہ پھیرے۔ان دونوں صورتوں میں مسبوق پر سجدہ سھو واجب نہیں ہے ۔تیسری صورت یہ ہے کہ مسبوق امام کے سلام کے بعد سھواًایک طرف سلام پھیرے اس صورت میں سجدہ سھو لازم ہے ۔چوتھی صورت یہ ہے کہ مسبوق  دونوں سلام پھیرے ایسی  صورت میں چونکہ بہرحال اس کا دوسرا سلام امام کے پہلے سلام کے بعد ہوگا اس لیے اس صورت میں بہرحال سجدہ سھو واجب ہے۔یہ ساری تفصیل اس وقت  ہے جب  سھواً سلام پھیرے چنانچہ اگر قصداً سلام پھیرے تو نماز فاسد  ہوکر اعادہ ضروری ہوگا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل نےدو رکعات کے بعد امام کے ساتھ شریک ہوکر بھول سے امام کے سلام کے ساتھ سلام پھیرا ،تو اگر امام کے سلام کے ساتھ متصل یاامام کے سلام سے پہلے ایک طرف سلام پھیرا ہو اور پھر  کھڑے ہوکر نماز مکمل کرلی ہوتو نماز مکمل ہوئی ہے ۔اور اگر امام کے سلام کے بعد ایک طرف سلام پھیرا ہو یا  دونوں طرف سلام پھیرا ہو تو اس صورت میں سجدہ سہو لازم ہوا تھا ،سجدہ سہو نہ کرنے کی صورت میں وقت کے اندر نماز واجب الاعادہ تھی۔

 

قوله ( ولو سلم ساهيا ) قيد به لأنه لو سلم مع الإمام على ظن أن عليه السلام معه فهو سلام عمد فتفسد كما في البحر عن الظهيرية  قوله ( لزمه السهو ) لأنه منفرد في هذه الحالة ح  قوله ( وإلا لا ) أي وإن سلم معه أو قبله لا يلزمه لأنه مقتد في هاتين الحالتين،وفي شرح المنية عن المحيط إن سلم في الأولى مقارنا لسلامه فلا سهو عليه لأنه مقتد به وبعده يلزم لأنه منفرداهـ.ثم قال فعلى هذا يراد بالمعية حقيقتها وهو نادر الوقوع .(ردالمحتار علی الدرالمختار  ،کتاب الصلوۃ ،باب الإمامة،ج:2،ص:350)

كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوبا في الوقت، وأما بعده فندب. (حاشية الطحطاوي،كتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت،ص:440)


فتویٰ نمبر : 10740/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں