بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نامرد (عنین)شوہرسےخلاصی کا طریقہ اور اس صورت میں مہر


سوال

ایک شخص نے عقدِ نکاح کے بعد اپنی بیوی کو مختلف شرائط کے ساتھ طلاق کا اختیار دے دیا، جن میں سے ایک شرط یہ تھی: "اگر مرد نامرد ہو"۔ بعد ازاں اس نے اپنی بیوی کے ساتھ چار راتیں ہمبستری کرنے کی کوشش کی (پھر اس کی بیوی اس کے ساتھ نہ رہی)۔ لیکن ان چند د  نوں میں سے کسی دن بھی وہ بیوی سے مباشرت نہ کرسکا، کیونکہ اس کا عضوِ تناسل اتنی مقدار میں سخت و قائم نہ ہوسکا کہ دخول کر پاتا۔ {وضاحت یہ ہے کہ: ۱۔ اس کی مکمل کیفیت یہ تھی کہ فور پلے کے دوران اس کا عضو مکمل طور پر تناؤ میں آجاتا تھا، لیکن ہمبستری شروع کرنے کے عین وقت ڈھیلا پڑ جاتا، جس کی وجہ سے وہ مباشرت نہ کرسکا۔ البتہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس کے عضو کے کھڑا ہونے کی قوت پہلے سے زیادہ بہتر ہو رہی تھی، لیکن اتنی نہ ہوئی کہ دخول ہوسکے۔ ۲۔ ایک تجربہ کار مسلمان جنسی ماہر ڈاکٹر نے اس شخص کے تمام حالات سن کر اور اس کا طبی و جسمانی معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ اس میں جنسی ناتوانی کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ جو کچھ ہوا وہ محض پہلی بار کے تجربے اور نفسیاتی و حالات کی بنیاد پر ایک ردِ عمل ہے، جسے طبّی زبان میں “Situational Performance Anxiety” کہا جاتا ہے(جو گھبراہٹ، ذہنی دباؤ، ضرورت سے زیادہ توقعات اور کارکردگی پر غیر معمولی توجہ وغیرہ کی وجہ سے پیش آتا ہے)۔ یعنی یہ مسئلہ وقتی ہے، جو چند دنوں میں دور ہوجائے گا اور وہ بیوی سے ہمبستری پر قادر ہوجائے گا) اس مرحلے پر محترم مفتی صاحب کی خدمت میں سوال یہ ہے: 1۔ کس قسم کی جنسی ناتوانی کی وجہ سے عورت شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کرسکتی ہے یا طلاق حاصل کرسکتی ہے؟ وقتی ناتوانی کی وجہ سے یا دائمی ناتوانی کی وجہ سے؟ 2۔ شریعت کی نظر میں کیا مذکورہ شخص کو جنسی ناتوان یعنی عنین شما ر کیا جائے گا؟ 3۔ ان چند دنوں کے حالات کی بنیاد پر کیا اس شخص کی بیوی فوراً شوہر کی جنسی ناتوانی کا عذر پیش کرکے اپنے اوپر طلاق نافذ کرسکتی ہے؟ یا شوہر کو ایک سال کی مہلت دینا ہوگی، پھر اگر وہ صحتیاب (جنسی طور پر قادر) نہ ہوا تو تب وہ طلاق حاصل کرسکے گی؟ 4۔ اگر اس شخص کی بیوی مذکورہ وجہ پیش کرکے ابھی اپنے اوپر طلاق واقع کردے، تو کیا وہ مکمل مہر کی حقدار ہوگی؟ براہ کرم ان امور کا واضح شرعی حل عنایت فرما کر مجھے ہمیشہ کے لئے ممنون و مشکور فرمائیں۔

جواب

فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ عنین (نامرد) سے مراد وہ شخص ہے جو عضو مخصوص رکھنے کے باوجود بیوی سے ہمبستری کرنے پر قادر نہ ہو ۔عنین کی بیوی کے لیے اس سے خلاصی کی صورت یہ ہے کہ اول تو شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے، لیکن اگر شوہر طلاق دینے کے لیے تیار نہ ہو تو عورت اپنا معاملہ مسلمان قاضی کی عدالت میں پیش کرے کہ میرا شوہر عنین ہے اور آج تک اس نے ایک مرتبہ بھی میرا حق ادا نہیں کیا اس لیے میں اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ، چنانچہ مجھے اس کے نکاح سے علیحدہ کردیا جائے ۔قاضی پہلے شوہر سے اس بات کی تحقیق کرے اگر شوہر اقرار کرے کہ وہ ایک دفعہ بھی بیوی سے ہمبستری نہیں کرسکا تو قاضی اس کو علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دے گا ،اگر سال بھر کے علاج سے وہ ایک مرتبہ بھی بیو ی سے ہمبستری پر قادر ہوجائے تو عورت کا حق فسخ ختم ہوجائے گا جس کے بعد وہ علیحدگی کا مطالبہ نہیں کرسکتی ،البتہ اگر اس مدت میں شوہر ایک مرتبہ بھی جماع نہ کرسکے، تو اس سے کہا جائے گا کہ عورت کو طلاق دے دو، اگر وہ طلاق دینے سے انکار کرے تو قاضی خود ان کے مابین تفریق کرے گا ۔

البتہ اگر قاضی کے دریافت کرنے پر شوہر عورت کے دعوی کی تکذیب کرتے ہوئےاس بات سے انکار کردے کہ وہ عنین ہے اور یہ دعوی کرے کہ اس نے بیوی سے ہمبستری کی  ہے تو قاضی عورت سے یہ معلوم کرلے گا کہ وہ باکرہ ہے یا ثیبہ ہے ؟ اگر عورت یہ دعوی کرے کہ میں ثیبہ ہوں تو اس صورت میں قسم کے ساتھ شوہرکے قول کا اعتبار ہوگا ۔ اگر شوہر قسم کھائے کہ میں نے ہمبستری کی ہے تو اس کے قول کو مانا جائے گا اور عورت کا حق فسخ ختم ہو کر علیحدہ گی کا مطالبہ نہیں کر سکے گی ،لیکن اگر شوہر قسم سے انکار کرے تو اس صورت میں شوہر کو ایک  سال کی مہلت دی جائے گی ،اگر ایک سال میں ہمبستری  کرے تو عورت کا حق  فسخ نکاح ساقط ہو جائے گا اور اگر ایک سال میں ہمبستری پر قادر نہ ہوا تو قاضی ان دونوں کے درمیان  تفریق کرے گا۔

اور اگر عورت کہے کہ میں باکرہ ہوں تو قاضی دو تجربہ کار خواتین سے اس کا معائنہ کروائے گا اگر وہ یہ رپورٹ پیش کریں کہ یہ ثیبہ ہے تو اس صورت میں قسم کے ساتھ شوہرکے قول کا اعتبار ہوگا ۔اگر شوہر قسم کھائے کہ میں نے ہمبستری کی ہے تو اس کے قول کو مانا جائے گا اور عورت کا حق فسخ ختم ہو کر علیحدگی کا مطالبہ نہیں کر سکے گی ،لیکن اگر شوہر قسم سے انکار کرے تو اس صورت میں شوہر کو ایک  سال کی مہلت دی جائے گی ،اگر ایک سال میں ہمبستری  کرے تو عورت کا حق  فسخ ساقط ہو جائے گا اور اگر ایک سال میں ہمبستری پر قادر نہ ہوا تو قاضی ان دونوں کے درمیان  تفریق کرے گا۔

          جہاں تک مہر کا حکم ہے تو واضح رہےکہ مہر بیوی کاحق ہے جو شوہرپر  نکاح کے وقت واجب ہوجاتاہے ،  نکاح کرنے کے بعد اگر شوہر بیوی کے ساتھ جماع کرے یا اس سے صرف خلوت صحیحہ کرے ، یعنی ایسی ملاقات کرے جس میں جماع کرنے سے شرعی، حسی اور طبعی کوئی مانع موجود نہ ہو تو اس کی وجہ سے شوہر پر پورے مہر کی ادئیگی لاز م ہو جاتی ہے ، اگر چہ شوہر اس کے بعد طلاق دے دےیا دونوں کے مابین تفریق ہوجائے۔

درج بالا تفصیل کے مطابق سوالنامہ میں مذکور سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔اگر جنسی ناتوانی ایسی ہو کہ ایک سال کی مہلت کے باوجود شوہر ہمبستری پر قادر نہ ہوسکے تو اس صورت میں عورت شوہر سے علیحدہ گی کا مطالبہ کرسکتی ہےاور قاضی کے ذریعے علیحدگی حاصل کر سکتی ہے۔

2۔صورت مسئولہ کے مطابق  اگر واقعی ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق شوہر کا یہ مسئلہ عارضی  ہو تو ایک سال تک اس کو مہلت دی جائے گی اورایک سال سے پہلے اس کو عنین نہیں کہا جا سکتا  کہ بیوی اس سے علیحدگی کا مطالبہ کر سکے۔

3۔صورت مسئولہ کےمطابق عورت شوہرکی جنسی ناتوانی کا عذر پیش کر کے اپنے اوپر طلاق نافذ نہیں کر سکتی بلکہ شوہر کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی اگر وہ اس میں ایک بار بھی ہمبستری پر قادر ہوا تو عورت کا حق فسخ نکاح ختم ہوجائے گا۔

4۔مذکورہ صورت حال کے مطابق چونکہ ان دونوں کے درمیان خلوت صحیحہ  ہوئی ہے اس لیے اگر کسی وجہ سے ان دونوں کے درمیان  جدائی آجائے تو عورت پورے مہر کی حقدار ہوگی۔

 

‌ولو ‌اختلف ‌الزوج ‌والمرأة ‌في ‌الوصول إليها فإن كانت ثيبا فالقول قوله مع يمينه " لأنه ينكر استحقاق حق الفرقة والأصل هو السلامة في الجبلة " ثم إن حلف بطل حقها وإن نكل يؤجل سنة وإن كانت بكرا نظر إليها النساء فإن قلن هي بكر أجل سنة " لظهور كذبه " وإن قلن هي ثيب يحلف الزوج فإن حلف لا حق لها وإن نكل يؤجل سنة۔(الهداية ، كتاب الطلاق ، باب العنين ، ج: 2 ص: 421)

إذا رفعت المرأة زوجها إلى القاضي وادعت أنه عنين وطلبت الفرقة فإن القاضي يسأله هل وصل إليها أو لم يصل فإن أقر أنه لم يصل أجله سنة سواء كانت المرأة بكرا أم ثيبا وإن أنكر وادعى الوصول إليها فإن كانت المرأة ثيبا فالقول قوله مع يمينه أنه وصل إليها كذا في البدائع فإن حلف بطل حقها وإن نكل يؤجل سنة كذا في الكافي وإن قالت أنا بكر نظر إليها النساء وامرأة تجزئ والاثنتان أحوط وأوثق فإن قلن إنها ثيب فالقول قول الزوج مع يمينه كذا في السراج الوهاج فإن حلف لا حق لها وإن نكل يؤجله سنة كذا في الهداية وإن قلن هي بكر فالقول قولها من غير يمين۔(الفتاوى الهندية ، كتاب الطلاق ، الباب الثاني عشر في العنين ، ج: 1 ص: 576)

والخلوة بلا مانع حسي وطبعي وشرعي ۔۔۔ ولو مجبوبا أو عنينا أو خصيا في ثبوت النسب المجبوب و تأكد المهر.(تنويرالأبصار على صدر ردالمحتار ، كتاب النكاح ، باب المهر ، ج: 4 ص:249)


فتویٰ نمبر : 7292/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں