بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

معدنیات نکالنے کے لیے ایک کا لائیسنس فراہم کرنااور دوسرے کا کام کرنے کا حکم


سوال

مندرجہ ذیل تحریر کو پڑھ کر اس کے تناظر میں ارباب فتوی کی آراء سے آگاہ فرمایے۔ جزاکم اللہ خیرا۔ استفتاء ہم تین ساتھیوں نے کسی سے قرض لیکر ( جو کہ بعد میں ہم تینوں مشترکہ طور پر اس قرض کو لوٹا دینگے )معدنیات کے کاروبار کے لیے حکومت وقت سے لائیسنس بنوایا۔اب ایک تاجر نے ہم سے رابطہ کیا کہ میں مقامی آدمی ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ کہاں پر معدنیات ہیں اور کہاں پر نہیں۔لہذاہم نےان سےبات کی کہ آپ ہمارےلائیسنس کی مددسےمعدنیات نکالنے کے لیےمشنری۔۔۔آلات وغیرہ کابندوبست کریں جوکہ اس نےمان لیا۔اب وہ اپنےذاتی پیسوں سے یہ مشنری لائے گا اور اشیاء ضروریہ خریدے گا۔اس تناظر میں مندرجہ ذیل سوالات کو حل کریں۔ پہلا سوال:کیا ہم چاروں کا یہ معاملہ عقد شرکت ہے یا عقد مضاربت ؟ دوسرا سوال: معدنیات کی آمدنی کا ستر فیصد حصہ ہمارے تینوں ساتھیوں کی مرضی سے تاجر لے گا۔ تو کیا یہ جائز ہے ؟ تیسرا سوال: ہم تین ساتھیوں نے ایک دوسرے سے یہ عہد و پیمان بلکہ گوکہ اسٹامپ  پر لکھا ہے کہ آمدنی کا نصف حصہ غرباء کے لیے مختص ہوگی اور انہی میں بانٹ دینگے تو کیا یہ جائز ہے ؟ چوتھا سوال: کیا تاجر کے ذمے ہم یہ شرط لگا سکتے ہیں کہ آپکی واقفیت کی بنا پر آپ جگہ و مزدور وغیرہ خود ڈھونڈ لیں۔؟ پانچواں سوال:چار آدمیوں پر مشتمل کاروبار میں ایک کا رب المال ہونا اور باقی تینوں کا مضاربین ہونا جائز ہے ؟ جبکہ یہ تینوں اس ہی کاروبارمیں آپس میں شریک ہو؟

جواب

 واضح رہے کہ دو یا دو سے زیادہ افراد کا باہم سرمایہ ملا کر کوئی معاملہ یا کاروبار  شروع کر نے کا نام شرکت ہے،اس میں نفع کا تعین حصص  کے اعتبار سے ضروری ہے،مثلانفع دونوں کےدرمیان آدھا آدھا ہوگا، یا  مثلا کسی ایک فریق کے لیے ستر فیصداور دوسرے کے لیے تیس فیصد، یا دونوں کے سرمایہ کے تناسب سےتقسیم ہوگا،یا ایک فریق زیادہ محنت کرتا ہو،یاکاروبار کو وقت زیادہ دیتا ہو تو اس کے لیے نفع کی شرح باہمی رضامندی سے بڑھانا درست ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جب ایک جانب سے تین ساتھیوں نے معدنیات نکالنے کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنے کی خاطر لائیسنس حاصل کیا، اور دوسری جانب سے کاروبار کی باقی ضروریات کو پورا کر کے کام کرنا اور آپس میں منافع کو فیصد کے اعتبار سے تقسیم کرنا طے پایا، تو یہ نہ عقدِ شرکت ہے اور نہ عقدِ مضاربت۔ اس لیے کہ عقدِ شرکت میں دونوں جانب سے مال ہونا ضروری ہے، جبکہ مضاربت میں ایک جانب سے مال اور دوسری جانب سے عمل ہوتا ہے۔جبکہ صورتِ مسئولہ میں ایک جانب سے صرف معدنیات نکالنے کا لائیسنس دیا گیا ہے، جو کہ مال نہیں بلکہ کام کرنے کا ایک اجازت نامہ ہےاور دوسری طرف سے مال ہے اس لیے یہ شرکت نہیں ہو سکتی،اسی طرح مال لگانے والے کے ذمے عمل ہونے کی وجہ سے یہ مضاربت بھی نہیں۔البتہ اگر لائیسنس دینے  والےلائیسنس کے علاوہ کچھ نہ کچھ نقد سرمایہ بھی دیں، تو پھر یہ عقدِ شرکت  ہوجائےگی جس میں شرکت کے تمام احکام کی رعایت ضروری ہوگی۔چنانچہ ہر شریک کے سرمایہ کی مقدار اور نفع میں اس کاتناسب معلوم ہونا ضروری ہے۔ کام کرنے والے شریک کے لیے باہمی رضامندی سے زیادہ نفع مقرر کرنا بھی  درست ہے، اور اس پر کام کرنے کے لیے مشترکہ سرمایہ سےمزدور وغیرہ فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی عائد کی جا سکتی ہے۔مزید یہ کہ کمائی کے کسی مخصوص حصے کو غرباء پر صدقہ کرنا شرکاء کی رضامندی سے جائز ہے۔

 

عن أبي مسعود قال: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرنا بالصدقة ، فما يجد أحدنا شيئا يتصدق به حتى ينطلق إلى السوق، فيحمل على ظهره، فيجيء بالمد فيعطيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‌وإني ‌لأعرف ‌اليوم ‌رجلا ‌له ‌مائة ‌ألف ، ما كان له يومئذ درهم "(شرح مشكل الآثار‌‌،باب بيان مشكل ما...ج:14، ص:105، رقم الحديث:5486)

الشركة:(هي) بكسر فسكون في المعروف لغة: الخلط، سمي بها العقد لانها سببه،وشرعا: عبارة ‌عن ‌عقد ‌بين ‌المتشاركين في الاصل والربح. ( الدرالمختار،كتاب الشركة،ج:6ص:422)

‌إذا ‌شرطا ‌الربح ‌على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا.(بدائع الصنائع، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج:6، ص:62)

 ومنها أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة. (بدائع الصنائع، كتاب الشركة، فصل في شروط أجزاء هذه الأنواع، ج:7،ص:509)

وإن شرطا العمل على أحدهما فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح جاز...وإن شرطاه على أقلهما ربحا لم يجز لأن الذي شرطا له الزيادة ليس له في الزيادة مال ولا عمل ولا ضمان وقد بينا أن الربح لا يستحق إلا بأحد هذه الأشياء الثلاثة. (بدائع الصنائع، كتاب الشركة، فصل في شروط أجزاء هذه الأنواع، ج:7،ص:518)

‌‌كتاب المضاربة:(هي) لغة مفاعلة من الضرب في الأرض وهو السير فيها وشرعا (عقد شركة في الربح بمال من جانب) رب المال (وعمل من جانب) المضارب.(رد المحتارعلى الدرالمختار،كتاب المضاربة،ج:5، ص:645)


فتویٰ نمبر : 3948/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں