بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شہوت سے کپڑے کے اوپر چھونے سے حرمتِ مصاہرت کا حکم


سوال

ایک شخص نے کسی غیر محرم عورت کے جسم کو شہوت کے ساتھ چھوا، اس حال میں کہ دونوں کے درمیان کوئی کپڑا حائل تھا، تو ایسی صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مرد کا شہوت کے ساتھ کسی غیر محرم عورت کے جسم کو چھونے سے حرمتِ مصاہرت (سسرالی رشتوں کی وجہ سے نکاح کی حرمت) ثابت ہو جاتی ہے۔ تاہم،اگر یہ فعل کپڑوں کے اوپر سے ہو ،اور کپڑا اتنا موٹا اور دبیز ہو کہ چھونے والے کو ملموس (عورت) کے جسم کی حرارت محسوس نہ ہو، تو اس صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔ اگرچہ اس فعل کے نتیجے میں شہوت کا انتشار ہی کیوں نہ ہو جائے۔اوراگر کپڑا اتنا باریک ہو کہ چھونے والے کی ہتھیلی تک ملموس کے جسم کی حرارت پہنچ جائے، تو ایسی صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔

 

مسّ إنما یوجب حرمة المصاهرة إذا لم یکن بینهما ثوبٌ ، أما إذا کان بینهما ثوب فإن کان صفیقاً لا یجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك، وإن کان رقیقاً بحیث تصل حرارة الممسوس إلی یده تثبت، کذا في الذخیرة۔(الفتاویٰ الھندیۃ،كتاب النكاح،الباب الثالث في بيان المحرمات ج:1،ص:275)


فتویٰ نمبر : 7365/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں