بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خودکشی کرنے والے کا حکم


سوال

ایک شخص مجاہدین میں تھے انڈیا کے فوج نے اسے گرفتار کیا اور اس کے اعضاء مخصوصہ کوکاٹ دیا ۔ پھر اسےچھوڑا گیاتووہ گھر پر آیا۔ اس کے والدین نے ان کو شادی کرنے پر مجبور کیا لیکن شادی کی رات اس نے خودکشی کی اب میرا سوال یہ ہے کہ(1)کیا اس کے والدین اس خودکشی کے گناہ میں شریک ہیں یا نہیں ؟( 2 )کیا یہ شخص ہمیشہ کے لیے جہنم میں ہوگا یا کچھ مدت کے بعد نکالا جائے گا ؟

جواب

ہر انسان کاجسم اوراس کی روح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس امانت ہوتی ہےجس میں خیانت کرنے کی اجازت نہیں ،اس وجہ سے خودکشی کرنا (یعنی اپنے آپ کو خود ہی مارنا) اسلام میں حرام ہے اورگناہ کبیرہ (بڑا  گناہ) ہے،تاہم اگر کوئی شخص خودکشی کو حلال اور جائز  سمجھ کر  نہ کرے، بلکہ کسی  مصیبت وپریشانی سے تنگ آکر خودکشی کرلے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، اس لیےجس طرح دوسرے گناہ گار مسلمان اپنی سزا پانے کے بعد یاپائے بغیراللہ کے فضل وکرم اور اس کی رحمت سے جنت میں جائیں گے، اسی طرح خودکشی کرنے والے  کا بھی یہی حال ہوگا۔نیز حکم مباشر یعنی جوبراہ راست کوئی کام سرانجام دےاس پر لگتا ہے نہ کہ سبب بننےوالےپر۔

صورت مسؤلہ میں اگروالدین کواپنے بیٹے کا علم نہیں تھاکہ وہ شادی سے قاصر ہے اورانہوں نے  اس کو شادی پر مجبورکیاجس پراس نے خودکشی کرلی تو اس صورت میں والدین  گناہ گارنہیں ہیں،البتہ اگر ان کو معلوم تھا کہ ہمارا بیٹا شادی سے قاصر ہے اور اس کے باوجود انہوں نے اس کو شادی پر مجبور کیاجس پر اس نے خود کشی کی، تو پھروالدین بھی گناہ گار ہیں اس لیے ان کو توبہ کرنی چاہیے۔نیزخود کشی کرنے والااپنی سزا بھگتنے کے بعد اللہ کے فضل کرم سے  جنت میں جائے گا۔

 

قال الله تعالى:﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورۃ الفاطر: 18] 

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من تردى من جبل فقتل نفسه ; فهو في نار جهنم يتردى فيها خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن تحسى سما فقتل نفسه ; فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن قتل نفسه بحديدة، فحديدته في يده يتوجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا» ". متفق عليه.

قال الطيبي رحمه الله: والظاهر أن المراد من هؤلاء الذين فعلوا ذلك مستحلين له وإن أريد منه العموم، فالمراد من الخلود والتأبيد المكث الطويل المشترك بين دوام الانقطاع له، واستمرار مديد ينقطع بعد حين بعيد لاستعمالهما في المعنيين، فيقال: وقف وقفا مخلدا مخلدا مؤبدا، وأدخل فلان حبس الأبد، والاشتراك والمجاز خلاف الأصل فيجب جعلهما للقدر المشترك بينهما للتوفيق بينه وبين ما ذكرنا من الدلائل۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب القصاص،ج:6،ص:2262،رقم الحديث:3453)


فتویٰ نمبر : 6516/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں