بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جمعہ کی سنتوں کو ان کے مقررہ وقت سے پہلے پڑھنا


سوال

 جمعہ کی سنتیں جو پہلی پڑھی جاتی ہیں یا بعد میں اگر سب سنتیں جمعہ کی نماز سے پہلے ہی پڑھ لیں تو اسکا کیا حکم ہے کیا ایسا کر سکتے ہیں اور اگر کر لیا تو وہ ادا ہو جائیں گی یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ سنتوں کے پڑھنے کے لیےجووقت مقرر ہے ۔اس وقت میں ادا کرنا سنت ہے  ۔جو سنتیں نماز سے پہلے ہیں ان کو پہلے اور جو بعد میں ہیں ان کو بعد میں ہی پڑھاجائے،سب سنتیں اکٹھی طور پر پہلے پڑھنے سے  سنت ادا نہیں ہوگی۔

لہذاصورت مسؤلہ میں اگر کوئی شخص جمعہ کی تمام سنتیں جمعہ کی نماز سے پہلے پڑھ لےتو اس طرح کرنے سے جمعہ کے بعد والی  سنتیں ادا نہیں ہوں گی ۔

 

(‌وسن) ‌مؤكدا (‌أربع ‌قبل ‌الظهر ‌و) أربع قبل (الجمعة و) أربع (بعدها بتسليمة) فلو بتسليمتين لم تنب عن السنة، ولذا لو نذرها لا يخرج عنه بستليمتين وبعكسه يخرج (وركعتان قبل الصبح وبعد الظهر والمغرب والعشاء) شرعت البعدية لجبر النقصان، والقبلية لقطع طمع الشيطان.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار،ص91:)


فتویٰ نمبر : 10767/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں