بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

الگ کمائی سے خریدےگئےمکان میں میراث کا حکم


سوال

ایک بندہ اپنے گاؤں سے شہر کی طرف کمانے کے لیے آیا اور ماہانہ اپنے گھر والدین کو خرچہ بھی بھیجتا رہا ،خرچے کے علاوہ اپنے لیے تھوڑی تھوڑی رقم الگ جمع کرتا رہا اس جمع شدہ رقم سے اس نے ایک مکان خریدا اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس مکان میں اس کے بھائیوں کا حصہ شامل ہوگا یا نہیں؟ اسی طرح کیا یہ مکان والد کی میراث میں شمار ہوگا یا میری ملکیت  شمار ہوگا؟ 

جواب

اگر کسی  نے اپنی ذاتی محنت، ملازمت یا کاروبار سے کما کر اس سے اپنے لیےعلیحدہ کوئی جائیدا دیا مکان حاصل کیاہو، اور اس میں وراثتی مال یا دیگر ورثاء کی کمائی شامل نہ ہو، تو وہ اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی۔تاہم، اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس جائیداد کی خریداری میں مشترکہ مال بھی شامل تھا، تو ایسی صورت میں دیگر کا بھی اس میں حق ثابت ہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے اپنی ذاتی کمائی سے اپنے لیے  کوئی مکان خریدا  ہو اور اس میں وراثتی مال  والدیا دیگر بھائیوں کی کمائی شامل نہ ہو ،تو ایسی صورت میں  وہ مکان  اس کی ذاتی ملکیت  شمار ہو گی  چنانچہ اس کا حصہ نہ ہو گا اور نہ وہ والد کی میراث میں شمار ہو گی، تاہم اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس مکان  کی خریداری میں مشترکہ مال بھی شامل تھا، تو ایسی صورت میںان شرکاء  کا بھی اس میں حق ثابت ہو گا ۔

 

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي. ( البحر الرائق، كتاب الحدود، فصل في التعزير، ج:5، ص:44)

کل يتصرف فی ملکه کيف ما شاء ، لکن اذا تعلق حق الغير به فيمنع المالک من تصرفه علی وجه الاستقلال .(مجلة الأحكام العدلية، ‌‌الفصل الأول في بيان بعض قواعد أحكام الأملاك،ص: 230،المادة: 1192)

(و ما حصله أحدهما فله و ما حصلاه معا فلهما)(قوله: و ما حصله أحدهما) أي بدون عمل من الآخر(الیٰ قوله) مطلب: اجتمعا في دار واحدة و اكتسبا و لا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج و تكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها .(ردالمحتار على الدر المختار،فصل في الشركة الفاسدة،ج: 4ص:325)


فتویٰ نمبر : 6535/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں