بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زلزلہ کی وجہ سے نماز توڑنا


سوال

ہماری ایک پرانی مسجد ہے جو کہ بہت ضعیف ہوچکی ہے،جماعت کے دوران اگر زلزلہ آ جائےاور مسجد کی عمارت کے گرنے کا خطرہ ہو،تو ایسی صورت میں امام کے لیے کیا حکم ہے؟ نماز توڑ دےیا جاری رکھے؟

جواب

واضح رہے کہ وہ اسباب جن کی وجہ سے ایک نمازی کے لیے نمازتوڑنے کی گنجائش ہے ان میں سے ایک سبب جان جانے کا خطرہ بھی ہے کہ اگر کسی شخص کو ایسا خطرہ لاحق ہوجائے کہ اس کی وجہ سے اس کی جان چلی جانے کا اندیشہ ہو، تو اس صورت میں اس کے لیے نماز توڑنا جائز ہوتا ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق زلزلہ کی وجہ سے اگر عمارت گرنےاورجان جانے کا خطرہ ہو، تو امام اور مقتدی نماز توڑ سکتے ہیں۔

 

عن معمر،عن الحسن،وقتادة في رجل كان يصلي فأشفق أن يذهب دابته أو أغار عليها السبع؟قالا:ينصرف،قيل:أفيتم على ما قد صلى؟قال معمر:أخبرني عمرو،عن الحسن،أنه قال:إذا ولى ظهره القبلة استأنف الصلاة.( مصنف عبد الرزاق،كتاب الصلاة، باب الرجل يكون في الصلاة فيخشى أن يذهب دابته أو يرى الذي يخافه،رقم الحديث:3288،ج:2ص:261)

ويباح قطعها لنحو قتل حية،وند دابة،وفور قدر،وضياع ما قيمته درهم له أو لغيره.ويستحب لمدافعة الأخبثين،وللخروج من الخلاف إن لم يخف فوت وقت أو جماعة،ويجب لإغاثة ملهوف وغريق وحريق ...الخ(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1، ص:654)


فتویٰ نمبر : 10739/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں