بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
ایک مجلس میں تین طلاقوں کا حکم
سوال
ہمارے علاقے میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھے تین طلاق دیے اس نے پہلے دیوبندی علما سے مسئلہ پوچھ لیا تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ عورت مغلظہ بن چکی ہے اور بغیر حلالہ کے وہ آپ کے لیے حلال نہیں ہوسکتی ۔عدت گزرنے کے بعد بندہ بہت پریشان رہا تو کسی نے اس کو بتایا کہ اہل حدیث کے ہاں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی ہیں لہذا آپ ایک اہل حدیث عالم سے پوچھ لیں اور ان کا مذہب اختیار کرلیں تو مسئلہ حل ہوجائے گا اور صرف تجدید نکاح کرنی پڑے گی ۔چنانچہ وہ شخص(طلاق دینے والا)ایک اہل حدیث عالم کے پاس جاکر تین طلاق کو ایک سمجھ کر اپنی بیوی کو اپنے گھر میں بسایا ہے ان کے پاس مسلم شریف کی حدیث ابن عباس کو بطور دلیل پیش کرکے فتوی بھی ان کے پاس موجود ہے،جس سے عوام میں بہت شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ لہذا علما و مفتیان حضرات سے گزارش ہے کہ ابن عباس کی روایت کا جواب اور ائمہ اربعہ کا مسلک تفصیل کے ساتھ بیان فرما کر ارسال فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ تین طلاق دینے کو طلاق مغلظ کہتے ہیں یہ اگر چہ سخت گناہ ہے لیکن قرآن وحدیث کی روشنی میں ائمہ اربعہ کا اس کے وقوع پر اتفاق ہےتین طلاق دینے کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہو سکتی ہیں :
((1تین مجلسوں میں الگ الگ تین طلاقیں دے ۔
((2تین کے عدد کی صراحت کے ساتھ ایک ہی مجلس میں تین طلاق دے جیسے یوں کہے "تجھے تین طلاق ہے"۔
(3)ایک ہی مجلس میں تین بار صیغہ طلاق کا تلفظ کرے اور عدد کی صراحت نہ کرے جیسے یوں کہے "میں نے طلاق دی ،میں نے طلاق دی ،میں نے طلاق دی "۔ تینوں صورتوں میں تین طلاقیں واقع ہوکر مدخول بھا عورت طلاق مغلظ کے ساتھ علیحدہ ہو جائے گی۔
لہذا اگر کوئی شوہر عاقل ،بالغ ہو اور وہ اپنی بیوی کو ہمبستری یا خلوت صحیحہ کے بعد ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو تین طلاقیں واقع ہوں گی اور عورت کے ساتھ اس کا ازدواجی تعلق ختم ہو جا ئے گاذیل میں قرآن وحدیث سے طلاق ثلاثہ کے وقوع پرچند دلائل ذكر كئے جاتے ہیں:
((1 قال الله تعالی: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ﴾(البقرة: 230)
ترجمہ:پھر اگراس کو(تیسری)طلاق دے دے تواس کے بعد وہ اس کیلئے حلال نہ رہی گی یہاں تک کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔
آيت كا حاصل یہ ہے کہ دو طلاق رجعی کے بعد شوہر رجوع کا حق رکھتا ہے لیکن تیسری طلاق دینے کے بعد رجوع کا حق ختم ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے ،آیت کریمہ میں مجلس کے متحد یا مختلف ہونے کا کوئی تذکرہ نہیں، لہذا مجلس متحدہویامختلف دونوں صورتوں میں تین طلاقیں دینے سے عورت مغلظہ ہو جائی گی ۔
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
قال أبو بكر قوله تعالى الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان الآية يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها وذلك لأن قوله الطلاق مرتان قد أبان عن حكمه إذا أوقع اثنين بأن يقول أنت طالق أنت طالق في طهر واحد وقد بينا أن ذلك خلاف السنة فإذا كان في مضمون الآية الحكم بجواز وقوع الاثنتين على هذا الوجه دل ذلك على صحة وقوعهما لو أوقعهما معا لأن أحدا لم يفرق بينهما وفيها الدلالة عليه من وجه آخر وهو قوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور.(أحكام القرآن للجصاص،ج:2،ص:83،سورة البقرة:230)
ترجمہ:ابو بکر (الجصاص) نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان "طلاق دو بار ہے، پھر یا تو معروف طریقے سے روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے چھوڑ دینا" اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص تین طلاقیں اکٹھی دے دے، تو وہ واقع ہو جائیں گی، اگرچہ ایسا کرنا (یعنی تین طلاقیں ایک ساتھ دینا) شریعت میں منع ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان "الطلاق مرتان" (طلاق دو بار ہے) اس بات کا حکم بیان کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ہی طہر (پاکی) میں دو مرتبہ کہے: "تو طلاق ہے، تو طلاق ہے" تو اس کا حکم کیا ہے۔ اور ہم پہلے یہ بیان کر چکے ہیں کہ ایسا کرنا سنت کے خلاف ہے۔پس جب آیت میں اس طرح دو طلاقیں دینے کو معتبر مانا گیا ہے، حالانکہ وہ سنت کے خلاف ہیں، تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اگر کوئی تینوں طلاقیں بھی ایک ساتھ دے دے تو وہ بھی واقع ہو جائیں گی، کیونکہ کسی نے بھی ان دونوں صورتوں (دو طلاقیں اکٹھی دینا یا تین طلاقیں اکٹھی دینا) میں فرق نہیں کیا۔اور اس آیت میں اس پر ایک اور طریقے سے بھی دلیل موجود ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان:"پھر وہ (عورت)اس کے لیے حلال نہیں ہوتی جب تک کہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے۔تو اللہ تعالیٰ نےدو طلاق کے بعد تیسری طلاق سے بیوی کے حرام ہو جانے کا حکم دیا ۔ اور یہ نہیں کہا کہ وہ طلاقیں مختلف اَطہار (پاکی کے اوقات) میں دی گئی ہوں۔ لہٰذا اس سے لازم آتا ہے کہ طلاقیں جس طریقے سے بھی دی جائیں (سنت طریقہ ہو یا غیر سنت، جائز طریقہ ہو یا ناجائز ) ان سب کا حکم (یعنی وقوع) برابر ہے۔
(2) صحیح البخاری میں عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذکور ہے کہ انہوں نے ایک مجلس میں آپﷺ کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں آپﷺ نے ان کو نافذ قرار دیا اورغیر معتبر قرار نہیں دیا۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
حدثنا يحيى قال اخبرنا عبدالرزاق قال(عويمر) كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها فطلقها ثلاثا قبل أن يأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم حين فرغا من التلاعن ففارقها عند النبيﷺ. (صحيح البخاري،كتاب الطلاق،باب التلاعن في المسجد،رقم الحديث:5309)
ترجمہ:عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! اگر اب بھی میں اس عورت کو اپنی زوجیت میں رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی پس جب دونوں لعان سے فارغ ہوئےانہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم دینے سے پہلے اس کو تین طلاقیں دےدیں اور نبی کریم ﷺ کی موجودگی ہی میں اس عورت کو جدا کردیا ۔
(3)اسی طرح امام بخاری ؒ نے باب منعقد کیا ہے "باب من اجاز الطلاق الثلاث "اور اسکے ذیل میں حضرت عویمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا ہے جس سے مقصود ایک مجلس میں طلاق ثلاثہ کے واقع ہونے کا اثبات ہے ۔
(4) طلاق ثلاثہ کے واقع ہونے کے بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فتوی بھی بخاری شریف میں موجود ہے:
وقال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك. (صحيح البخاري، كتاب الطلاق، باب: من قال لامرأته: أنت على حرام، رقم الحديث:5264)
جب ابن عمر رضی اللہ عنہ سے تین طلاق دینے والے شخص کے متعلق پوچھا جاتا تو فرماتے"اگر(کسی عورت کو) ایک یا دو مرتبہ طلاق(رجعی) دی جاتی تھی تو آپﷺ ہمیں رجوع کر نے کا حکم فرماتے ،پس اگر تین طلاقیں دی ہوں تو وہ حرام ہو گئی یہاں تک کہ تمہارے علاوہ کسی اورشوہر سے نکاح(اور ہمبستری)کرے۔
(5) اسی طرح اعمش ؒ نے حضرت علی ؓ سے ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہونے کو بیان کیا ہے ۔
عن الأعمش قال:كان بالكوفة شيخ يقول:سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول:" إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة " والناس عنقا واحدا إذ ذاك يأتونه ويسمعون منه قال: فأتيته فقرعت عليه الباب فخرج إلي شيخ، فقلت له:كيف سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول فيمن طلق امرأته ثلاثا في مجلس واحد؟ قال:سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول:إذا طلق رجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة"قال:فقلت له:أين سمعت هذا من علي رضي الله عنه؟قال:أخرج إليك كتابا فأخرج فإذا فيه:بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول:" إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتى تنكح زوجا غيره"قال:قلت:ويحك هذا غير الذي تقول قال: الصحيح هو هذا ولكن هؤلاء أرادوني على ذلك.(السنن الكبرى للبيهقي،كتاب الخلع والطلاق، باب من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك،رقم الحديث:14988)
ترجمہ:اعمش (مشہور تابعی) فرماتے ہیں:کوفہ میں ایک بوڑھا (شیخ) تھا، جو کہا کرتا تھا:"میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے، تو وہ ایک ہی شمار کی جائے گی۔"(یعنی طلاقِ ثلاثہ کو طلاقِ واحدہ قرار دیتے تھے۔)اور اس وقت لوگ جوق در جوق اس (بوڑھے) کے پاس آتے اور اس سے یہ روایت سنتے۔اعمش کہتے ہیں:تو میں (خود تحقیق کرنے کے لیے) اس کے پاس گیا، اور اس کے دروازے پر دستک دی۔وہ بوڑھا میرے پاس نکلا، تو میں نے اس سے پوچھا:"تم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے یہ کیسے سنا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے، تو وہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی؟"اس نے جواب دیا:"میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے، تو وہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی۔"میں نے کہا:"تم نے یہ علی رضی اللہ عنہ سے کہاں سنا؟"اس نے کہا:"میں تمہیں ایک تحریر دکھاتا ہوں۔"پھر اس نے ایک کاغذ نکالا، جس پر لکھا تھا:بسم الله الرحمن الرحيم،یہ وہ بات ہے جو میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنی: "اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے، تو وہ (بیوی) اس سے جدا ہو جاتی ہے، اور وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوتی، یہاں تک کہ کسی اور مرد سے نکاح کرے۔"میں نے اس سے کہا:"ارے، یہ تو وہ بات نہیں ہے جو تم پہلے کہہ رہے تھے!"تو اس نے جواب دیا:"صحیح بات تو یہی (تحریر میں لکھی ہوئی) ہے، لیکن لوگوں نے مجھے زبردستی وہ بات کہنے پر مجبور کیا جو میں کہہ رہا تھا۔"
(6) امام دار الہجرت امام مالکؒ نے "موطا امام مالک" میں مفسر شہیر حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا: أن رجلا قال لعبد الله بن عباس إني طلقت امرأتي مائة تطليقة فماذا ترى علي؟ فقال له ابن عباس:طلقت منك لثلاث، وسبع وتسعون اتخذت بها آيات الله هزوا.(موطأ امام مالك،كتاب الطلاق،باب ماجاء في البتة،ج:2،ص:550،رقم الحديث:1)
ترجمہ : ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے کہا کہ :میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں، تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : تیری عورت کو تیری طرف سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور باقی ستانوے کی وجہ سے تونے اللہ تعالی کی آیات کو مذاق بنا لیا۔
(7) علامہ عینی ؒ فرماتے ہیں:
ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم: الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه، وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون، عل أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن، ولكنه يأثم، وقالوا: من خالف فيه فهو شاذ مخالف لأهل السنة، وإنما تعلق به أهل البدع ومن لا يلتفت إليه لشذوذه عن الجماعة التي لا يجوز عليهم التواطؤ على تحريف الكتاب والسنة.(عمدة القاري،كتاب الطلاق،باب من أجاز طلاق الثلاث لقول الله تعالى:{الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان}(البقرة:230)،ج:20،ص:233)
یعنی جمہور علماء تابعین ؒ،ائمہ اربعہؒ اور ان کے اصحاب کا مذہب ایک مجلس میں طلاق ثلاثہ کے وقو ع کا ہے اور فرماتے ہیں کہ جو اس مسئلے میں مخالفت کرتے ہیں وہ شاذ ، اہل سنت والجماعۃ کے مخالف ، اور اہل بدعت ہیں جن کی طرف ان کے شاذ ہونے کی وجہ سے کوئی توجہ نہیں دی جاسکتی ،کتاب وسنت کی تحریف پر ان کے ساتھ موافقت جائز نہیں ۔
طلاق مغلظ کے بعد شوہر اور بیوی کا آپس میں دوبارہ ازدواجی تعلق تب قائم ہو سکتا ہے جب یہ عورت پہلے شوہر سے عدت گزار کر کسی اور شخص سے نکاح کرے اور اس دوسرے شوہرسے ہمبستری بھی کر لے اس کے بعد اگر وہ فوت ہو جائےیا طلاق دے تو اس دوسرے شوہر سے عدت گزار نے کے بعدپہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے ۔
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو اثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.(مختصر القدوري،كتاب الطلاق،باب الرجعة،ص:159)
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی شوہرنے بیوی کو تین طلاقیں دی ہوں تو اب دونوں کا اکٹھا رہنا اور میاں بیوی جیسی زندگی گزارنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔