بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نسوار كا كاروبار كرنا


سوال

 نسوار کے کاروبار اور اس  کی کمائی  کا  کیا حکم ہے ؟جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نسوار میں تمباکو ہوتا ہےاور تمباکو نباتات کی ایک قسم ہے اکثر علمائے کرام کے ہاں دیگر نباتات کی طرح اس کی کاشت اور خریدوفروخت بھی جائز ہے ۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق نسوار کے کاروبار سے حاصل شدہ منافع حلال ہیں۔تا ہم  اگر کسی ملک میں تمباکو یا نسوار کی خریدوفروخت قانونا ًممنوع ہوتو چونکہ مفاد عامہ کے لیے یہ قانون بنایا جاتا ہےاس لیے وہاں اس کا کاروبار شرعا ًبھی ممنوع ہوگا البتہ اگر کسی نےاس  کا کاروبار کرکے منافع حاصل کر لیے تو منافع  کوحرام نہیں کہا جا سکتا۔

 

(‌وصح ‌بيع ‌غير‌الخمر)مما‌مر،ومفاده صحة ‌بيع ‌الحشيشة‌والأفيون.(الدرالمختارشرح تنویرالأبصار،كتاب الأشربة، ص:677)


فتویٰ نمبر : 6505/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں